جہاں روکا گیا وہاں دھرنا دے کر اس شہر کو لاک ڈائون کردیں گے
مارچ سے قبل موٹر سائیکل سوار ریلیاں نکالیں گے، تبلیغی جماعت کی طرز پر شرکت کریں گے
10 سے 12 کارکنان پر ایک جماعت ہوگی، 2 خادم ہوں گے جو تبدیل ہوتے رہیں گے
گرفتاریوں کی صورت میں امیر خود بخود تبدیل ہوجائیں گے، کارکنان کو گرفتاری سے بچنے کی ہدایت
تنظیمی اجلاسوں کا سلسلہ عروج پر، حساس اداروں نے مارچ کے حوالے سے رپورٹس تیار کرنا شروع کردیں
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ آزادی مارچ کے لیے کارکنوں کو انتظامات کی ہدایت جاری کردی گئیں۔ آزادی مارچ میں جے یو آئی (ف) کے کارکن سیلنڈر، چولہے اور بستر ساتھ لائیں گے، جہاں روکا گیا وہیں دھرنا دے کر اس شہر کو لاک ڈائون کر دیں گے، مارچ سے قبل جے یو آئی (ف) موٹر سائیکل سوار ریلیاں نکالیں گے، تبلیغی جماعت کی طرز پر کارکن آزادی مارچ میں شرکت کریں گے۔ ایک حساس ادارے کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی (ف) کی میٹنگز کا سلسلہ عروج پر ہے کارکنوں کو گرفتاری سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے، حساس اداروں نے مارچ کے حوالے سے رپورٹس مرتب کرنا شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مارچ اور دھرنا تبلیغ کی طرز ہوگا۔ 10 سے 12 کارکنوں پر ایک جماعت ہوگی 2 خادم ہوں گے، خادم تبدیل ہوتے رہیں گے ہر جماعت مل جل کر اور امداد باہمی کے تحت پیسے اکٹھے کرکے مارچ میں شریک ہوگی اور کھانا وغیرہ پکائیں گے۔ اس طرح دھرنا اور مارچ کے اخراجات پورے کیے جائیں گے، گرفتاریوں پر خود بخود امیر بھی تبدیل ہو جائیں گے۔ کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہر ممکن صورت گرفتاری سے بچا جائے اور ہر کارکن اپنی مالی حیثیت کے مطابق مارچ میں شریک ہوگا۔ جمعیت کے وکلا اور ڈاکٹروں کی ذمہ داری خدمت پر مامور ہوگی وکلا اپنے کارکنوں کو مفت قانونی معاونت اور ڈاکٹر مفت طبی سہولت فراہم کریں گے جن کے ساتھ ابتدائی طبی امداد کا سامان ہوگا۔ مارچ سے قبل موٹر سائیکل سواروں کی ٹولیاں ملک بھر میں ریلیاں نکالیں گی۔

