English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آزادی مارچ کو روکنے کیلئے ٗ اسلام آباد کو کنٹینرسٹی میں تبدیل کردیا گیا

کراچی سمیت دیگر شہروں سے سیکڑوں ٹینکرز ٗ ٹرالرز اور ٹرکوں کو تحویل میں لے لیا گیا ٗ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی
دس ہزار کی اضافی نفری طلب ٗ اسلام آباد کی سرکاری عمارتیں خالی کرانے کے احکامات جاری کردئیے گئے
کراچی/اسلام آباد/لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کو روکنے کی تیاریاں شروع کردیں، کراچی سمیت دیگر شہروں سے سیکڑوں ٹینکرز، ٹرالرز اور ٹرکوں کو تحویل میں لینے سے ٹرانسپورٹرز اذیت کا شکار ہو گئے کیونکہ انہیں ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد یومیہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس پر گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے اور کہا ہے کہ گاڑیوں پر لدے اربوں روپے کے سامان کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ دوسری جانب 400 سے زائد کنٹینرز سے اسلام آباد کو کنٹینرز سٹی بنا دیا گیا ہے۔ اسلام آباد اور کراچی میں جے یو آی (ف) کے کارکنوں پر مختلف مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس اعلامیے کے مطابق مارچ کے شرکاء سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری طلب کرلی ہے۔ دریائے سندھ پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والے اٹک پُل پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں اور پُل کو بند کرنے کے لیے وزارت داخلہ کے فیصلے کا انتظار کیا جارہا ہے، پُل پر کنٹینرز لگانے کا کام جاری ہے تاہم ٹریفک کے لیے ابھی ایک لین کھلی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق وزارت داخلہ کا حکم ملتے ہی اٹک پل کو مکمل بند کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے پیش نظر پشاور سے لاہور جی ٹی روڈ بھی بند کیے جانے کا امکان ہے۔ ادھر اسلام آباد میں آزاد کشمیر، پنجاب اور بلوچستان سے اضافی پولیس نفری طلب کر لی گئی ہے جنہیں ٹھہرانے کے لیے اسلام آباد کی سرکاری عمارتیں خالی کرانے کے احکام بھی جاری ہو گئے ہیں، ذرائع کے مطابق 400 سے زائد کنٹینرز سے اسلام آباد کو کنٹینرز سٹی بنا دیا گیا ہے جبکہ ڈی چوک اور ملحقہ سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا جاچکا ہے۔ اسلام آباد اور کراچی میں جے یو آئی (ف) کے کارکنوں پر مختلف مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے پولیس اعلامیے کے مطابق مارچ کے شرکاء سے نمٹنے کے لیے اٹک، راولپنڈی اور لاہور میں سب سے زیادہ اضافی نفری بھجوائی جائے گی۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کئی ہزار کنٹینرز پکڑ لیے ہیں۔ دریں اثناء پنجاب پولیس کے ٹریننگ کالجز سے 10ہزار سے زائد اضافی نفری طلب کر لی گئی کراچی سمیت دیگر شہروں سے سیکڑوں ٹینکرز، ٹرالرز اور ٹرکوں کو تحویل میں لینے سے ٹرانسپورٹرز اذیت کا شکار ہو گئے کیونکہ انہیں ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد یومیہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے اور کہا ہے کہ اگر گاڑیوں میں لدے اربوں روپے کے سامان کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ علاوہ ازیں پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے کنٹینرز 24 گھنٹوں میں ان کو واپس کیے جائیں بصورت دیگر کاروبار بند کرکے روڈز بلاک کرکے حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے