ویب ڈیسک —
بدھ کو برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے نواح میں ٹرک سے برآمد ہونے والی 39 لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ برطانوی پولیس کے مطابق یہ لاشیں چینی شہریوں کی ہیں۔
لاشیں برآمد ہونے کے بعد پولیس نے ٹرک ڈرائیور کو قتل کے شبے میں حراست میں لیا تھا جس سے تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا۔
اسیکس پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی لاشوں میں 31 مرد اور آٹھ خواتین شامل ہیں۔ تاہم اموات کی وجہ کا تعین اور شناخت کا عمل مکمل کرنے میں وقت درکار ہو گا۔
بدھ کو پولیس نے لندن کے صنعتی پارک سے شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ کنٹینر ڈرائیور مورس رابن سن کو حراست میں لیا تھا۔ بعدازاں کنیٹنر سے 39 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق وہ مورس کے والد سے بھی رابطے میں ہیں۔ پولیس نے شمالی آئرلینڈ کے دو گھروں پر چھاپہ بھی مارا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے واقعے کو ہولناک قرار دیتے ہوئے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ برطانوی پارلیمان کے بعض اراکین نے بھی واقعے کو انسانی اسمگلنگ کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔ تاہم پولیس نے اس کی تاحال تصدیق نہیں کی۔
امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کے مطابق یہ کنٹینر بیلجیم کی بندرگاہ زی برگ سے برطانیہ برطانیہ پہنچا تھا۔ حکام کے مطابق بیلجیم اور برطانوی حکام مشترکہ طور پر واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے حکام کے مطابق بندرگاہ سے لندن کے صنعتی پارک تک سفر کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ یہ کنٹینر منگل کو بیلجیم کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ متاثرہ افراد کو بیلجیم میں کنیٹنر میں رکھا گیا یا برطانیہ میں۔
چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں چین کے سفارت خانے کے اراکین تحقیقات میں معاونت کے لیے اسیکس جا رہے ہیں۔
