English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے موکل کو جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب معمولی ہارٹ اٹیک ہوا ہے، اس لیے ان کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی کی سماعت جلد کی جائے۔

نواز شریف کو معمولی ہارٹ اٹیک کی بات انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران کی جبکہ اس کی تصدیق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت دوبارہ شروع ہونے پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ کیس اُن تک کیسے آیا ‘جب ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ صحت اچھی نہیں تو حکومت نے کوئی ایکشن کیوں نہ لیا۔’

عدالت کے ریمارکس تھے کہ ‘ہم نے نوٹس اس وجہ سے دیا کہ اگر (نواز شریف کو) کچھ ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے۔’

اس پر نیب کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ابھی کوئی ہدایات نہیں ہیں۔’

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ‘اگر ضمانت کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر ذمہ دار آپ ہوں گے۔’

‘آپ ریاست ہیں اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔’

ٹاک شوز میں ڈیل کی باتیں

سماعت میں صحافی محمد مالک، حامد میر، سمیع ابراہیم اور کاشف عباسی سمیت متعدد اینکر پرسنز کو بلایا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ‘ڈیل’ کے معاملے پر پروگرام کرنے پر چند اینکرز کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا ‘آپ کا کیا مطلب ہے، ڈیل کس نے کی اور کس سے کی؟ کیا عدالت بھی اس کا حصہ ہے؟’

اس پر حامد میر اور محمد مالک نے عدالت سے سوال کیا ‘ہم نے کہاں پر توہینِ عدالت کی؟’

چیئرمین پیمرا کی جانب سے ان کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے اور ان سے جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا ‘آپ روز پروگرام دیکھتے ہیں؟ انجوائے کرتے ہوں گے کہ عدلیہ پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔’

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ‘آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام ہونے دے رہے ہیں۔’

اِس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر دوبارہ سماعت آج (سنیچر) چار بجے تک ملتوی کردی تھی اور عدالت نے اس سلسلے میں فریقین کو نوٹس جاری کیے۔

عدالت کا یہ بینچ چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ہے۔

آج کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ ’کل سے آج کے درمیان کیا ہوا ہے کہ جلد سماعت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔‘

اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ ’کل کے بعد نواز شریف کی طبعیت مزید خراب ہوئی ہے۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ڈویژنل بینچ میں اس معاملے کی سماعت منگل کو ہونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سزا یافتہ قیدی کے معاملے میں صوبائی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ سزا معطل کر سکتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایسی صورت میں یہ معاملے عدالت میں نہیں آنے چاہیے۔‘

عدالت نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بھی تحریر ہے کہ نواز شریف کی طبعیت تشویشناک ہے۔ عدالت کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب، وزیراعظمِ پاکستان اور چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

عدالت میں ابتدائی سماعت کے بعد نواز شریف کے قریی ساتھی بیرسٹر ظفراللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کی صحت سے متعلق سخت غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور بیماری کے باوجود نیب نے ان کی دواؤں اور ڈاکٹرز تک رسائی کو مشکل بنا دیا تھا جس کی وجہ سے ان کی صحت کا معاملہ مزید سنگینی اختیار کر گیا۔

نواز شریف

’پلیٹلیٹس کی تعداد بڑھ گئی ہے‘

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد 45000 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

سنیچر کو لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس میں کم سے کم 35 فیصد جو پلیٹلیٹس ہیں وہ ینگ ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان کا بون میرو اس وقت بہت اچھا کام کر رہا ہے جو کہ ایک اچھا اشارہ ہے۔

صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ کل رات نواز شریف کو دل میں تکلیف ہوئی تھی جسے ہم انجائنا کہتے ہیں اور اس انجائنا کی تکلیف کی وجہ سے کچھ دیر ان کی سانس میں بھی تکلیف ہوئی تھی۔

یاسمین راشد کے بقول اس وقت ہسپتال میں تمام کارڈیالوجسٹ موجود تھے، نواز شریف کے ٹیسٹ کرائے گئے اور ان ٹیسٹوں کا جو رزلٹ آیا ہے اس کے مطابق انھیں معمولی ہارٹ اٹیک ہوا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ شام نواز شریف کی ایکو گرافی کی گئی اس میں نواز شریف کے اس ہارٹ اٹیک میں مزید کوئی خرابی نہیں ہوئی۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ سنیچر کی صبح سے ہی نواز شریف کا بلڈ پریشر کنٹرولڈ ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ گذشتہ دو تین روز سے نواز شریف کا بلڈ پریشر اتار چڑھاؤ کر رہا تھا۔

یاسمین راشد کے مطابق آج جب ڈاکٹر نواز شریف کو ملنے گئے تھے انھوں نے ڈاکٹرو ں کو بتایا کہ ان کی رات اچھی گزری اور وہ رات کو اچھی نیند سوئے۔

چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور

گذشتہ جمعے کو لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں طبی بنیادوں پر رہائی کی درخواست منظور کی تھی۔

سماعت کے دوران میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر ایاز محمود نے بتایا تھا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، ایک طرف پلیٹلیٹس لگائے جاتے ہیں تو دوسری طرف 24 گھنٹوں میں پلیٹلیٹس کی تعداد پھر کم ہو جاتی ہے۔

ماہرینِ قانون کہتے ہیں کہ نواز شریف کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت ہوئی ہے لیکن العزیزیہ ریفرنس میں ہونے والی قید کی سزا قائم ہے، اور اس میں رہائی کے لیے ضروری ہے کہ اس سزا پر بھی عمل درآمد معطل کیا جائے۔

سابق وزیرِ اعظم فی الحال لاہور میں سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کی 10 رکنی ٹیم ان کا طبی معائنہ کر رہی ہے۔

نواز شریف کے معالج طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کی بیماری کی تشخیص ہو چکی ہے۔ ’اس بیماری کا نام ایکیوٹ آئی ٹی پی ہے۔ یہ کینسر نہیں ہے اور اس کا علاج بھی ممکن ہے۔‘

گذشتہ ہفتے بدھ کو نواز شریف کے جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد 29 ہزار سے گر کر سات ہزار تک آ گئی تھی۔

جمعے کو وزیرِ اعظم عمران خان نے نواز شریف کے علاج کے لیے انھیں سروسز ہسپتال منقتل کرنے کے ساتھ ساتھ مریم نواز کو ان کے والد نواز شریف کے پاس رکھنے کی ہدایات جاری کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے