English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی کی 120 تاجر تنظیمیں متحد 29، 30اکتوبر کومکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کااعلان

تاجروں کو احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے پرمجبور کیا جارہا ہے ہمارے مطالبات پورے کیے جائیں حکومت ڈو بتی معیشت کو بچانے میں کردار ادا کرے‘تاجر تنظیمیں
کارخانے بند اور مزدور وں کے بیروزگار ہونے سے اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے‘محمود حامد ٗ احسان گجر ٗ رفیق جدون ٗ ہارون چاند ودیگر کی مشترکہ پریس کانفرنس
کراچی(اسٹاف رپورٹر) بجٹ کے متنازع شقوں کی واپسی، خریدرای کے لیے این آئی سی کے خلاف اور فکس ٹیکس سسٹم کے نفاذ کے لیے کراچی کی 120سے زائد ایسوسی ایشنز نے متحد ہونے کا اعلان کیا ہے اور ملک بھر میں29،30اکتوبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کافیصلہ کرلیا ہے۔ اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے مطالبات پورے کیے جائیں اور ڈو بتی معیشت کو بچانے میں کردار ادا کرے۔ معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں معیشت جمود کا شکار ہے قومی بینکوں سے 700ارب روپے نکالے جاچکے ہیں لومز کے مزدوربے روزگار ہوگئے ہیں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کھربوں روپے کی انویسمنٹ پھنس کر رہ گئی ہے۔خود حکومتی ٹیکسوں میں غیر معمولی کمی آئی ہے کارخانے بند اور مزدور وں کے بے روزگار ہونے کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اور کراچی تاجر رابطہ کونسل کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں اسمال ٹریڈرز کے صدر محمود حامد ، سینئر نائب صدر سید لیاقت علی ، سندھ صرافہ گروپ کے رہنما ہارون چاند ، انجمن تاجران بولٹن مارکیٹ کے صدر رفیق جدون ، موٹر سائیکل ڈیلرز کے صدر احسان گجر ، پاکستان بیڑی ایسویشن کے صدرسیف الرحمن ، سندھ تاجر اتحاد کے صدر حبیب شیخ ، آل سٹی تاجر اتحاد کے رہنما شرجیل گوپلانی ، عبداللہ بٹرا ، کراچی اسپورٹس مارکیٹ کے صدر سلیم ملک ، کے ایم سی مارکیٹ کے صدر عبدالحمید بادلہ ، کنفکشنری ایسویشن کے صدر جاوید حاجی عبداللہ ، میلامائین اینڈ اسٹیل مرچنٹ کے رہنما سلیم بٹلہ ، صدر ٹریڈرز الائنس کے رہنما عبدالصمد ، پاک الائنس آف مارکیٹ ایسوسی ایشن کے رہنما محمد یوسف ، میرٹ روڈ ٹریڈرز کے صدر عثمان شریف ، بولٹن مارکیٹ ٹریڈرز کے رہنما تاج الدین، اسمال ٹریڈرز اردو بازار کے رہنما اقبال یوسف، طارق روڈ ٹریڈرز کے رہنما اسلم بھٹی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تاجر مطالبات کی منظوری تک متحد رہ کر جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد نے کہا کہ عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کی ہدایت پر بننے والے بجٹ 2019-20کے اعلان کے بعد ملک معاشی طور پر مفلوج ہو گیا ہے حکومت نے بجٹ میں 5ہزار 500روپے کے ٹیکسز عوام پر لگائے ہیں اور سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کا وصول کنندہ تاجروں کو بنایا جارہا ہے، این آئی سی کو خریداری کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے اور یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ تاجر ٹیکسوں کی ادائیگی سے بھاگ رہے ہیں، حکومتی پروپیگنڈاسفید جھوٹ ہے کیونکہ حکومت نے 50ہزار کی خریداری پر جو 17فیصدسیلز ٹیکس عوام پر لگایا ہے اس کی وصولی کی ذمے داری تاجر وں پر ڈالی جارہی ہے اور تاجر کو ود ہولڈنگ ایجنٹ بھی بنایا جارہا ہے ،جس کے لیے ہم تیار نہیں نہ ہی ملک کے تاجر اتنے تعلیم یافتہ ہیں اور نہ ہی اس حساب کتاب کو رکھنے کے لیے ایک اکاؤنٹینٹ ملازم رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور نہ ہی ہم اس میںہونے والی غلطیوں کی سزا بھاری جرمانے اور قید و بند کی صورت میں برداشت کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 13جولائی کو اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی تھی جس کے بعد حکومت نے مذاکرات کی دعوت دی اس موقع پر حکومت نے این آئی سی کی شرط کو 30ستمبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا، ہم نے جذبہ خیر سگالی اور کشمیر کی نازک صورتحال کے پیش نظر اپنی 2روزہ ہڑتال کی کال واپس لے لی اور حکومت سے مذاکرات شروع کیے جو بے نتیجہ رہے، 7اور 9اکتوبر کو تاجروں نے اسلام آباد میں دھرنا دیاجس کے بعد مذاکرات دوبارہ بحال ہوئے، حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور حکومتی اہلکار چھوٹے تاجروں کے موقف کوتو تسلیم کرچکے ہیں، فکسڈ ٹیکس کے نظام پر بھی اتفاق رائے پایا جاتا ہے مگر حکومت ان مسائل پر قانونی ضمانت دینے سے گریز کررہی ہے جس کے بغیر کسی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں۔اسمال ٹریڈرز کے صدر نے کہا کہ معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں معیشت جمود کا شکار ہے قومی بینکوں سے 700ارب روپے نکالے جاچکے ہیں لومز کے مزدوربے روزگار ہوگئے ہیں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کھربوں روپے کی انویسمنٹ پھنس کر رہ گئی ہے۔خود حکومتی ٹیکسوں میں غیر معمولی کمی آئی ہے کارخانے بند اور مزدور وں کے بے روزگار ہونے کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے ان حالات کے پیش نظر ہم کراچی کے تمام تاجر متفقہ طور پر 29،30اکتوبر کو 2 روزہ شڑڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے