English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یورپی یونین نے بریگزٹ میں 31 جنوری تک توسیع کی منظوری دے دی

القمر

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک اس حوالے سے تحریری منظوری سے قبل برطانیہ کے جواب کا انتظار کریں گے جبکہ تحریری منظوری کے حوالے سے حکومتوں کے پاس برسلز میں ان کے نمائندوں کی موجودگی میں طے پانے والے معاہدے کو قبول یا رد کرنے کے لیے 24 گھنٹے ہوں گے۔

یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘اس حوالے سے ہم تحریری سلسلہ اسی وقت شروع کر سکتے ہیں جب برطانوی حکومت کا معاہدہ ہمارے پاس ہوگا’۔

ان رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے یونین کے سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ تحریری پروسیجر کی میعاد 24 گھنٹے رکھنے پر اتفاق ہوا تھا تاہم اس کا وقت لندن کی جانب سے 31 جنوری تک توسیع کے لیے کی گئی پیش کش کو قبول کرتے ہی شروع ہوگا۔

یورپی یونین کے سفارت کار نے کہا کہ ‘اس فیصلے کو باقاعدہ طور پر اپنانے کے لیے ایک دن کی مہلت ہوگی’۔

برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے یورپی یونین کی پیش کش کو باقاعدہ طور پر قبول کرلیا ہے لیکن اس سے قبل ملک میں نئے انتخابات پر بھی زور دیا ہے۔

یورپی یونین کو ایک خط میں انہوں نے کہا کہ ‘یہ ایک ناپسندیدہ توسیع ہے’۔

انہوں نے یونین کو مزید کسی توسیع کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میرے بریگزٹ منصوبے کو دیکھنے کا وقت تھا لیکن خدشات تھے کہ موجودہ پارلیمنٹ ایسا نہیں کرنے دے گی۔

واضح رہے کہ برطانیہ کو 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے الگ ہونا تھا تاہم پارلیمنٹ نے بورس جانسن کو معاہدے کے بغیر علیحدگی سے روکتے ہوئے توسیع کے لیے درخواست کرنے پر مجبور کیا حالانکہ وہ واضح کرچکے تھے کہ بریگزٹ توسیع کے بجائے کھائی میں گرنے کو ترجیح دوں گا۔

بریگزٹ کے معاملے پر سابق وزیراعظم تھریسامے کو اپنے منصب سے مستعفی ہونا پڑا تھا کیونکہ انہیں نہ صرف اپنی پارٹی کے اندر بلکہ پارلیمنٹ میں بھی شدید مخالفت کا سامنا تھا۔

رواں برس جولائی میں بورس جانسن کو برطانیہ کا نیا وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا اور اسی کے لیے انہوں نے پارلیمنٹ کو بھی معطل کرنے کی منظوری لی تھی۔

برطانوی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا جس کے بعد بورس جانسن کے پاس مواقع محدود ہوگئے تھے اور پارلیمنٹ نے التوا کے لیے درخواست کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے