لاہور/اسلام آباد: طبی ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوششوں میں مصروف ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی ہونے کی وجہ جان سکیں۔
رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد ایک ہفتے سے لاہور کے سروسز ہسپتال میں موجود ہیں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ انہیں علاج کے لیے ملک کے کسی اور ہسپتال بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا مزید بہتر علاج ہوسکے۔
تاہم ان کی پارٹی کی سینیئر قیادت نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں۔
ڈاکٹروں کو ان کے علاج کے حوالے سے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیوں کہ پلیٹلیس بڑھانے کے لیے دی جانے والی دواؤں اور امراضِ قلب کی ادویات میں توازن رکھنا چاہتے ہیں۔
میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق مریض کے پلیٹلیٹس امراضِ قلب کے لیے دی جانے والی ادویات کے باعث کم اور زیادہ ہورہے ہیں تاہم ’مرض کی تشخیص ہونا ابھی باقی ہے۔
اس ضمن میں افواہیں گردش کررہی تھیں کہ ان کے اہلِ خانہ ان پر جاتی عمرہ میں موجود شریف میڈیکل سٹی منتقلی کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں حالانکہ حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سروسز ہسپتال میں اپنے علاج سے خوش ہیں۔
تاہم انہیں کسی اور ہسپتال میں منتقل کرنے کا اقدام حکومتی کاندھوں سے ان کے علاج کی نازک ذمہ داری کا بوجھ ان کے اہلِ خانہ کو منتقل ہوجائے گا۔
