ویب ڈیسک —
یورپی یونین کے قانون سازوں کا ایک وفد منگل 29 اکتوبر کو بھارتی کنٹرول کے کشمیر کا دورہ کر رہا ہے۔ یہ کسی بھی غیر ملکی وفد کا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پہلا دورہ ہو گا۔ دورے سے کئی گھنٹے قبل پیر کو کشمیر میں ایک گرینیڈ کے حملے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرینیڈ کا حملہ مشرقی ضلع بارہ مولہ کے قصبے میں سوپور کی ایک مارکیٹ میں ہوا جس میں دو خواتین سمیت کم ازکم 17 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز میں یہ دوسرا گرینیڈ حملہ ہے۔ پہلے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے چھ اہل کار زخمی ہو گئے تھے۔
5 اگست کو بھارتی آئین کے تحت واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے وادی میں بہت کشیدگی اور تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ کئی ہفتوں کے بعد لینڈ لائن فون سروس بحال کر دی گئی ہے لیکن انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان اسے اپنی شہ رگ سمجھتا ہے۔ دوسری جانب کشمیریوں کا ایک گروپ خودمختاری کا حامی ہے۔
پاکستان اور انسانی حقوق کے کئی گروپ بھارت پر یہ نکتہ چینی کر رہے ہیں کہ اس نے کشمیر میں لاک ڈاؤن کر رہا ہے اور کشمیری اسیری جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے بیرونی دنیا سے رابطے کٹے ہوئے ہیں۔ اور کسی کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ایسے میں یورپی یونین کے قانون سازوں کے ایک گروپ کی کشمیر میں آمد کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے کشمیر کو بیرونی دنیا کیلئے کھول دیا ہے جبکہ یورپی یونین کے وفد کے بعد دیگر گروپ بھی کشمیر کا دورہ کریں گے۔
ایک بھارتی عہدے دار کا کہنا ہے کہ منگل کو کشمیر کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے قانون سازوں کے 27 رکنی وفد کا تعلق 11 ملکوں سے ہے۔ اپنے اس دورے میں وہ سرکاری عہدے داروں اور عام شہریوں سے ملاقات کرے گا اور کشمیر کی زمینی صورت حال کے بارے میں آگاہی حاصل کرے گا۔
دوسری جانب کئی افراد یورپی یونین کے وفد کی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی بھارتی نامہ نگار نیہا مسیح نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی تین اراکین کو چھوڑ کر باقی سب کا تعلق یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں سے ہے ۔
یورپی یونین کے قانون سازوں نے پیر کے روز وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں اور زندگی کی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں جبکہ وفد کا کہنا ہے کہ کشمیر کے دورے سے انہیں حقیقی صورت حال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
کشمیری ادیب مرزا وحید نے ٹویٹ کیا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کے انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامل اراکین کو کشمیر کا گائیڈڈ ٹور کروانا قطعا حیرت کی بات نہیں۔ ٹویٹ کے مطابق ‘مضحکہ خیز حد تک ظالمانہ بات یہ ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے یہ اراکین ایسی جماعتوں کے رکن ہیں، جو کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والے گندمی رنگت کے حامل افراد کا یورپ آنا پسند نہیں کرتیں’۔
انڈیا ٹوڈے کی فارن افئیرز ایڈیٹر گیتا موہن نے یورپی یونین کے وفد کی ساخت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کیسا سرکاری دورہ ہے کہ نئی دہلی میں موجود یورپی یونین کے دفتر کو اس کا علم ہی نہیں ہے۔
دوسری جانب کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے، جو ریاست کے دیگر سیاست دانوں کے ساتھ 5 اگست سے حراست میں ہیں، اپنی ایک ٹویٹ میں اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ امریکی سینیٹرز کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔
اپنی ایک اور ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ غیر ملکی وفد کو عام لوگوں، مقامی میڈیا، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے بات چیت کرنے کا موقع ملے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر اور باقی دنیا کے درمیان حائل لوہے کی چادر ہٹا دی جائے۔
