کہیں ملتان کے کسی مخدوم کا نام لیا جا رہا ہے تو کہیں لاہور کے کسی خادم کا‘ سینئر اینکر پرسن
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر اینکر پرسن و کالم نگار غریدہ فاروقی کا اپنے کالم میں کہنا ہے کہ تبدیلی کا گھوڑا کچھ یوں دوڑ پڑا ہے کہ نہ ہاتھ باگ پر موجود ہیں اور نہ ہی پاؤں رکاب میں، اگر درست وقت میں ہی لگام تھام لی جاتی اور سمت ٹھیک کر لی جاتی تو آج پے در پے مشکلات کے بھنور کا شکار نہ ہوتے لیکن کیا کیجئے اقتدار کا ہما جب سرپر بیٹھتا ہے تو اپنے خوبصورت پروں سے مقتدر کے کانوں پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ سوائے اس ہما کی خوش الحان سروں میں خوشامد کے اور کچھ سنائی نہیں پڑتا۔یہاں تک کہ احساس ہی نہ ہو کہ یہ اقتدار خوبسورت ہما سرپر بیٹھے بیٹھے کب سر ہی اْڑا کر لے گیا۔غریدہ فاروقی مزید لکھتی ہیں کہ اسلام آباد کے دھیرے دھیرے سرد ہوتی ہیں تو ممکنہ قومی حکومت کے سربراہان کی پشی گوئیاں بھی کرنے لگی ہیں۔کہیں ملتان کے کسی مخدوم کا نام لیا جا رہا ہے تو کہیں لاہور کے کسی خادم کا۔کہیں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایسے وزیر کا جو ماضی میں صدر، چیئرمین سینیٹ اور وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں تو کہیں دبی دبی آوازیں عمر رسیدہ مگر جہاں دیدہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں جو ماضی میں قومی اسمبلی کی امامت بھی کر چکے ہیں۔الغرض جتنے منہ اتننی باتیں اور اتنے آپشنز لیکن ایک بات کم ازکم عیاں ہو رہی ہے کہ “اگلا کون” پر بہر حال بحث شروع ہو گئی ہے۔یہ وہی ماحول ہے جس طرف مولانا بار بار اشارہ کر رہے ہیں کہ طبل جنگ بج چکا ہے۔کسی نہ کسی کو تو واپسی کا راستہ لینا ہی ہے،مولانا اقتدار کے یوانوں سے حکمرانوں کو نکالنے کا بہت بڑا اعلان اپمے مارچ کے پنجاب میں قیام کے دوران ہی کر چکے ہیں اور اس کے جو روٹ انہیں منتخب کیا ویہ اسلام آباد براستہ راولپنڈی ہے۔

