شہر میں ٹرانسپورٹ مافیا بے لگام ہوچکی، نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا کرائے بڑھائے جا رہے ہیں‘درخواست گزار
محکمہ ٹرانسپورٹ نے کرایوں کو طے نہ کیا تو توہین عدالت کی درخوست دائر کی جائے ‘جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے عوامی ٹرانسپورٹ میں من مانے کرایوں سے متعلق درخواست پر محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو فوری طور پر قانون کے مطابق کرائیے طے کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس آغا فیڈل پر مشتمل 2 رکنی بینچ کے روبرو عوامی ٹرانسپورٹ میں من مانے کرایوں سے متعلق سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ شہر میں ٹرانسپورٹ مافیا بے لگام ہوچکی، 2015کے بعد سے کرایوں کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا مگر کرائیے بڑھائے جا رہے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسر نے بتایا کہ کرایے طے کرنے کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ کرایوں سے متعلق جلد ہی کمیٹی میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔ ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا۔ جواب پر ڈی آئی جی ٹریفک کے دستخط نہ ہونے پر عدالت برہم ہوگئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریماکس دئیے کیا اتنا معلوم نہیں کہ تحریری جواب پر دستخط ہونا ضروری ہوتا ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ آئی جی سندھ کو خط لکھیں کہ کس طرح رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ مافیا کو بے لگام کس نے چھوڑ رکھا ہے؟، کیا محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس کرایوں کا کوئی طریقہ کار موجود ہے؟۔ عدالت نے ریماکس میں کہا کہ اگر محکمہ ٹرانسپورٹ نے کرایوں کو طے نہ کیا تو توہین عدالت کی درخوست دائر کی جائے۔

