ویب ڈیسک —
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیرز کانفرنس (اے پی سی) آج اسلام آباد میں ہو گی۔
مقامی میڈیا کے مطابق 27 ستمبر کو شروع ہونے والے آزادی مارچ کے دوسرے مرحلے کی حکمت عملی پر مشاورت کے لیے اے پی سی دوپہر ایک بجے ہوگی۔ جس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اتوار کے روز آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم اگلے اقدامات کا فیصلہ بھی تمام اپوزیشن کی باہمی مشاورت سے کریں گے۔
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت اتوار کے روز ختم ہو چکی ہے۔

ڈیڈ لائن ختم ہونے اور آزادی مارچ کے چوتھے روز خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہر الیکشن میں مداخلت کی جاتی ہے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔
آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے فوج کے کردار کو زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ کے لیے ہماری فوج، جو ہمارے لیے محترم ہے، وہ ہر حال میں اس بات کو طے کرے گی کہ پاکستان کے عام انتخابات سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بے چارہ تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے۔ اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی۔

مسلم لیگ (ن) کا اجلاس
دوسری طرف مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے بھی پارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس پیر کو طلب کیا ہے۔ جس میں آزادی مارچ کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی بھی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف
علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی۔ تو ہم دھرنے میں شرکت کرسکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے بھی اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے بعد کی حکمت عملی زیر غور لائی جائے گی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس طلب
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 7 نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 54 کے تحت صدر عارف علوی کی طرف سے جمعرات کے روز شام چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
