لکھنو کلاتھ مارکیٹ میں کسٹمز افسران رات کی تاریکی میں دکانوں کے تالے توڑ کر کروڑوں مالیت کا غیر ملکی کپڑا لے کر فرار ہوگئے تھے
ڈیڑھ گھنٹے تک کارروائی میں 3ٹرک کپڑے سے لوڈ کرلئے تھے ٗ ہماری دکانوں میں تمام کپڑا قانونی ہے ٗ صدر جامع الائنس ایسوسی ایشن محمد ارشاد
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کسٹمز افسران کی ایم اے جناح روڈ لکھنؤ کلاتھ مارکیٹ میں غیر ملکی کپڑے کی برآمدگی کے لیے کارروائی پر تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کرکے ٹریفک جام کر دی، پولیس کی جانب سے کسٹمز افسران سے بات کرانے پر تاجروں نے احتجاج ختم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق آرام باغ تھانے کی حدود ایم اے جناح روڈ خالق دینا ہال کے سامنے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جامع کلاتھ مارکیٹ، اللہ والا مارکیٹ، لکھنؤ کلاتھ مارکیٹ سمیت دیگر متصل مارکیٹوں کے تاجروں اور مزدوروں نے سڑک بلاک کرکے ٹریفک بند کرا دیا، اطلاع ملنے پر آرام باغ، پریڈی، آرٹلری میدان، عیدگاہ سمیت ضلع جنوبی کے دیگر تھانوں کی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ اپنے آپ کو کسٹمز اہلکار کہنے والے رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح آئے تھے کوئی بھی یونیفارم میں نہیں تھا، بڑے بڑے 4 ٹرک اپنے ساتھ لائے تھے اور دکانوں کے تالے توڑ کر کروڑوں روپے مالیت کا 3 ٹرک کپڑا لے کر فرار ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر کئی دکاندار وہاں پہنچے کسٹمز افسران نے فائرنگ کی اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ کسٹمز افسران جاتے ہوئے اپنا ایک ٹرک بھی وہاں چھوڑ گئے، کسٹمز افسران ایک دکاندار مفیظ اور عالم سمیت 2 مزدوروں کو بھی اپنے ہمراہ لے گئے، جامع الائنس ایسوسی ایشن کے صدر محمد ارشاد کا کہنا تھا کہ کسٹمز افسران کی جانب سے فائرنگ کی گئی کسٹمز افسران نے دکانوں کے تالے کاٹ کر ڈیڑھ گھنٹے تک کارروائی کی اور سامان سے 3 ٹرک بھر کر لے گئے، ہماری دکانوں میں موجود سارا کپڑا قانونی ہے جو کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے لایا گیا ہے جس کا ثبوت کلیئرنگ ایجنٹ بھی موجود ہے۔

