پیچھے نہیں ہٹیں گے آگے بڑھ کر سخت حملہ کریں گے، فضل الرحمان
حکومت کو جانا ہوگا،مسئلہ استعفے کا نہیں قوم کی امانت کا ہے،اس اجتماع سے اسرائیل اور قادیانی بڑے پریشان ہیں
آزادی مارچ نے ان کے 40 سالہ پالیسی پر پانی پھیر دیا ہے، ہم فوج کومتنازع نہیں ہونے دیں گے‘ اجتماع سے خطاب
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے پر حکومت کو خبردار کیا ہے یہ تحریک ہے، پیش قدمی صرف آگے کی طرف ہوگی۔ کہتے ہیں کہ مولانا کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے،کہ مولانا نے وزیراعظم کو گرفتارکرنے کی بات کی،ہوش سے بات کرو، اگریہ سیلاب وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کرلے ،توکسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا، لیکن ہم پرامن ہیں ایسا کچھ نہیں کریں گے۔انہوں نے اسلام آباد میں پشاورموڑ پر آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن میں جائیں، الیکشن کمیشن تو ہم سے زیادہ بے بس ہے۔ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن ہے لیکن فیصلہ نہیں ہوا۔تمام جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی الیکشن کمشین، عدالت میں نہیں جانا،لیکن ہم دھاندلی کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کے پاس گئے،لیکن آج تک کچھ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہاں جائیں گے تو پیش قدمی کی طرف جائیں گے، آگے بڑھ کرسخت حملہ کرنے جائیں گے، بتائیں گے اسلام آباد میں آج ایک اجتماع ہے اور پورے پاکستان میں اجتماع کرکے دکھائیں گے۔ یہ سفر رکے گانہیں ، بلکہ اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔ مجھے کہا گیا کہ آپ کے لوگ ڈی چوک ڈی چوک کے نعرے لگا رہے ہیں میں نے کہا کہ ڈی چوک تو تنگ جگہ ہے، یہاں کھلی جگہ ہے پھر بھی زمین کم ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کل بھی کہا تھا کہ ہم سب جماعتیں ساتھ ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کو جانا ہوگا،مسئلہ استعفے کا نہیں قوم کی امانت کا ہے،اس اجتماع سے اسرائیل اور قادیانی بڑے پریشان ہیں، 1996کے ایک اخبار کی واضح سرخی تھی کہ 2020میں خطے میں اسرائیل کا اثررسوخ بڑھ جائے اور اس مقصد کیلئے کرکٹر عمران خان کو منتخب کیا گیا۔ ہم فوج کومتنازع نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ استعفے کا نہیں قوم کی امانت کا ہے۔ہمیں کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن میں جائیں، الیکشن کمیشن تو ہم سے زیادہ بے بس ہے۔فار ن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن ہے لیکن فیصلہ نہیں ہوا۔ ہم دھاندلی کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کے پاس گئے،لیکن آج تک کچھ نہیں ہوا،انہوں نے کہا کہ ہم یہاں جائیں گے تو پیش قدمی کی طرف جائیں گے، آگے بڑھ کرسخت حملہ کرنے جائیں گے، بتائیں گے اسلام آباد میں آج ایک اجتماع ہے اور پورے پاکستان میں اجتماع کرکے دکھائیں گے۔یہ سفر رکے گانہیں ، بلکہ اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔ مجھے کہا گیا کہ آپ کے لوگ ڈی چوک ڈی چوک کے نعرے لگا رہے ہیں میں نے کہا کہ ڈی چوک تو تنگ جگہ ہے، یہاں کھلی جگہ ہے پھر بھی زمین کم ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کل بھی کہا تھا کہ ہم سب جماعتیں ساتھ ہیں۔ اس وقت اگر دنیا میں اس اجتماع سے کوئی پریشان ہے، تو وہ اسرائیل اور قادیانی ہیں۔ وہ اس لیے پریشان ہیں، کہ آپ 1996کا نوائے وقت پڑھیں تو واضح سرخی تھی کہ اس وقت خطے میں 2020میں اسرائیل کا اثررسوخ بڑھ جائے اور اس مقصد کیلئے ایک کرکٹر عمران خان کو منتخب کیا گیا ہے۔لیکن آج کے اجتماع نے ان کے چالیس سالہ پالیسی پر پانی پھیر دیا ہے۔ آنے والے سالوں میں کوئی مائی کا لعل جرات نہیں کرسکتا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی بات کرے۔ قادیانیوں کیلئے کس کی یقین دہانی پر بات کی گئی کہ غیرمسلم قراردینے والی شق ختم کی جارہی ہے۔اب کسی کوپاکستانی آئین کی اسلامی شقوں کو چھیڑنے کی جرات نہیں ہوگی۔ دینی مدارس کے کردار کو جس طرح ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری فوج متنازع ہوتی جا رہی ہے، ہم فوج کومتنازع نہیں ہونے دیں گے، ہمیں واپس آئین کی طرف جانا ہوگا،یہ بات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہی تھی کہ ازسرنو معاہدہ ہونا چاہیے کیونکہ ہم آئین سے بہت دور چلے گئے ہیں۔سب ادارو ں کو طے کرنا ہوگا کہ آئین ہی سپریم ہے، اس کے تحت ہی سارا نظام چلے گا۔ جمہوریت بے معنی ہوکررہ گئی ہے۔ الیکشن میں کسی اور طرف دیکھا جاتا ہے۔اب عوام کے ووٹ پر ڈاکے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

