English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی کے صدر ادوان کی طرف سے امریکہ کا دور منسوخ کرنے کا امکان

القمر

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اشارہ کیا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حق میں اور آرمینیہ میں قتل عام کے حوالے سے قرارداد منظور ہونے کے باعث وہ اپنا دورہ امریکہ منسوخ کر سکتے ہیں۔

ترک صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر 13 نومبر کو واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس میں ہونے والی ووٹنگ کے باعث اس دورے کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ادھر ترکی کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نیوز ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ صدر اردوان کے دورہ امریکہ کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

امریکہ کا ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ ترکی کی طرف سے روس سے S-400 میزائل دفاعی نظام خریدنے کے فیصلے کے بعد آیا ہے۔ امریکہ پہلے ہی ترکی کے اس فیصلے کے بعد ترکی کیلئے امریکہ کے F-35 لڑاکا جہازوں کا پروگرام منسوخ کر چکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت یہ امریکہ جنگی جہاز ترکی میں مشترکہ طور پر تیار کیے جانے تھے۔

اس کے علاوہ ترکی کی جانب سے شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائیوں سے بھی امریکہ ترکی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے دو ہفتے بعد امریکی ایوان نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں ترکی کی خفگی میں مذید اضافہ ہوا ہے۔

آرمینیہ میں قتل عام کے حوالے سے ترکی کا کہنا ہے کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت کی فوجوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران بہت سے آرمینین لوگوں کی ہلاکت کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم وہ ان کی ظاہر کی گئی تعداد سے اختلاف کرتا ہے اور اس بات کو رد کرتا ہے کہ یہ ہلاکتیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل عام کے زمرے میں آتی ہیں۔

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کلیم نے کہا ہے کہ ترکی اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ صدر اردوان کے واشنگٹن کے دورے سے بامعنی مقاصد حاصل کیے جا سکیں جن میں شام کا تنازعہ، انسداد دہشت گردی، دفاعی صنعت میں تعاون اور دو طرفہ تجارت کے معاملات شامل ہیں۔

انہوں نے کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر اردوان امریکی دورے کے بارے میں آئندہ چند روز میں حتمی فیصلہ کر لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے