English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چین میں ویغور مسلمان خاندانوں کو ہراساں کیے جانے پر امریکہ کو تشویش

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو چینی صوبے سنکیانگ کے ویغور مسلمانوں کو مسلسل ہرساں کیے جانے پر شدید تشویش ہے۔

انہوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ان مسلمان خاندانوں کے افراد کو ہراساں کرنے کے علاوہ انہیں قید میں رکھا جاتا ہے یا پھر انہیں بغیر قانونی جواز کے زیر حراست رکھا جاتا ہے۔ ہراساں کیے جانے والوں میں فعال ویغور مسلمان کارکن اور سنکیانگ کے حراستی کیمپوں سے رہائی پانے والے ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی کہانی عام لوگوں کے سامنے رکھی۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بعض حالتوں میں ویغور مسلمان افراد کو امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکاروں سے ملاقات کے فوراً بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے چینی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حراست میں لیے گئے تمام ویغور مسلمانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

چین کے صوبے سنکیانگ میں ویغور مسلمانوں کیلئے قائم کیا جانے والا ایک بڑا حراستی کیمپ

چین کے صوبے سنکیانگ میں ویغور مسلمانوں کیلئے قائم کیا جانے والا ایک بڑا حراستی کیمپ

مائک پومپیو نے اپنے بیان میں ایک فعال ویغور خاتون کارکن، زمرت دعوت کا خاص طور پر ذکر کیا جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ایک تقریب کے دوران تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ سنکیانگ میں کس طرح ویغور مسلمانوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ضعیف والد کو متعدد بار پوچھ گچھ کیلئے حکام نے حراست میں لیا اور وہ حراست کے دوران مشکوک حالات میں انتقال کر گئے۔ زمرت دعوت نے مزید بتایا کہ انہیں بھی چینی حکام نے گرفتار کر کے حراستی مراکز میں رکھا تھا۔

چین پر سنکیانگ کے دور دراز علاقوں میں ایسے حراستی مراکز یا کمپلیکس قائم کرنے پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے جنہیں چینی حکومت ’’پیشہ ورانہ تربیتی ادارے‘‘ قرار دیتی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ ان اداروں کا مقصد ملک میں انتہا پسندی کا خاتمہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان مراکز میں لوگوں کو نئے ہنر سکھائے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں دس لاکھ سے زائد ویغور مسلمانوں کو زیر حراست رکھا گیا ہے۔ تاہم، چین اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ان مراکز میں ویغور مسلمانوں کے ساتھ کوئی زیادتی کی جا رہی ہے۔ چین کہتا ہے کہ سنکیانگ میں قائم کیے گئے مراکز چین کا اندرونی معاملہ ہے۔

چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دنیا کی ان دو سب سے بڑی معیشتوں میں گذشتہ 15 ماہ سے تجارتی جنگ بھی جاری ہے۔ چین امریکہ کی طرف سے ہانگ کانگ کے مظاہرین کی حمایت کو بھی چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے