کے ایم سی افسر اصغر عباس ٹاسک ملتے ہی متحرک
متنازعہ مشیر مالیات نے سندھ حکومت میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنا شروع کردیا ٗ ذرائع
اصغر عباس کو مک مکا کیلئے میدان میں اتارنے سے کمیشن کے ریٹ میں مزید اضافہ ہوگا ٗ افسران
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی) سندھ حکومت اور بلدیہ عظمی کراچی کے مابین اربوں کے ڈسڑکٹ اے ڈی پی فنڈز کے معاملے پرجاری تنازعہ حل کرانے کیلئے کے ایم سی کے متنازعہ مشیر مالیات اصغر عباس شیخ کو میدان میں اتاردیا گیا،بلدیہ کراچی کے حکام نے اصغر عباس شیخ کو اے ڈی پی فنڈز کی ریلیز کے ایم سی کو جاری کرانے کا اہم ٹاسک تفویض کردیا،سندھ حکومت اور بلدیہ کراچی کے مشترکہ چہیتے افسر اصغر عباس شیخ نے ٹاسک ملتے ہی معاملات طے کرانے شروع کردیئے،انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے بلدیہ عظمی کراچی کی روکی گئی ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی ریلیز شہری انتظامیہ کے بجائے کے ایم سی کو جاری کرانے کیلئے بلدیہ کراچی کے حکام نے متنازعہ مشیر مالیات اصغر عباس شیخ کو میدان میں اتاردیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اصغر عباس شیخ جنہیں لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنی عمر میں مبینہ جعلسازی کے الزام میں عہدے سے ریٹائرڈ کردیا تھا تاہم وہ عدالت عالیہ سے حکم امتناعی لیکر دوبارہ کے ایم سی میں مشیر مالیات کے اہم ترین عہدے پر تعینات ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ اصغر عباس شیخ کی ترقی کو بھی متنازعہ بتایا جاتا ہے جبکہ مذکورہ افسر کیخلاف سنگین کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات پر قومی احتساب بیورو (نیب) میں تحقیقات بھی جاری ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت محکمہ بلدیات اور کے ایم سی حکام کے مابین اربوں روپے کے اے ڈی پی فنڈز اور اس کی ادائیگی کی مد میں کروڑوں روپے مبینہ کمیشن وصولی کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور سندھ حکومت نے سندھ کے دیگر اضلاع کی طرح ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کا فنڈ کے ایم سی کے بجائے کمشنر کراچی کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد سے بلدیہ کراچی کے حکام سمیت ٹھیکوں کی خریدوفروخت اور جعلسازی کے ذریعے ترقیاتی اسکیمیں ٹھکانے لگانے میں ملوث ایجنٹس کی نیندیں اڑ گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکوں کی خریدوفروخت میں ملوث ایجنٹس نے سینکڑوں کنٹریکٹرز سے کروڑوں روپے کمیشن وصول کر کے ان کی اسکیمیں شامل کرانے کی یقین دہانی کرارکھی ہے ،ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کا فنڈز کمشنر کراچی کو منتقل ہونے کی صورت میںاربوں روپے کی بدعنوانیوں کا بھانڈا پھوٹنے کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداروں کے بھی کروڑوں روپے دائو پر لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے،تاہم مذکورہ خوفناک صورتحال میں بلدیہ کراچی کے حکام نے دونوں حکومتوں کے مشترکہ چہیتے افسر اصغر عباس شیخ کو مک مکا کیلئے میدان میں اتارا ہے جس کے بعد اصغر عباس شیخ ٹاسک ملتے ہی متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نے سندھ حکومت میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا شروع کردیا ہے،کے ایم سی کے بعض افسران کا کہنا ہے کہ اصغر عباس شیخ کے متحرک ہونے کے بعدصورتحال بہتر ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں جبکہ بعض افسران کا کہنا ہے کہ اصغر عباس کے متحرک ہونے سے کمیشن کے ریٹ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

