ویب ڈیسک —
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت بہت خراب ہے علاج کے لیے فوری طور پر انہیں ملک سے باہر جانا چاہیے۔
لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر مل کیس میں پیشی کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے لہذٰا وہ خواہش کے باوجود والد کے ساتھ سفر نہیں کر سکتیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ "یہ نواز شریف کی زندگی کا مسئلہ ہے میں گزشتہ سال اپنی والدہ کو کھو چکی ہوں۔ لہذٰا نواز شریف کو دنیا میں جہاں بھی علاج کی بہتر سہولیات ملتی ہوں انہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔”
سیاست میں متحرک ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مریم نواز بولیں کہ سیاست سے زیادہ انہیں اپنے والد کی صحت کی فکر ہے۔ ان کے بقول وہ نرسوں اور ملازموں کی بجائے خود 24 گھنٹے والد کی تیمارداری میں مصروف رہتی ہیں۔ سیاست تو ہوتی ہی رہے گی لیکن والدین دوبارہ نہیں ملتے۔


No media source currently available
مقدمات میں ریلیف کے حوالے سے مریم نواز نے کہا کہ انشاء االلہ سچ غالب آ کر رہے گا۔ ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) سے نام نکالنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ معاملات شہباز شریف دیکھ رہے ہیں۔
احتساب عدالت میں چوہدری شوگر مل کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکلا نے ان کی عدالت حاضری سے استثنٰی کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے مریم نواز کے چچا زاد بھائی یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی گئی۔
مریم نواز کو لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر مل کیس میں گزشتہ دنوں ضمانت پر رہائی دی تھی۔ نواز شریف کو بھی اس سے قبل اس کیس میں ضمانت کی درخواست منظور کر لی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی سابق وزیر اعظم کی العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں سزا دو ماہ کے لیے معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں شامل ہے جب تک وزارتِ داخلہ ان کا نام نہیں نکال لیتی نواز شریف بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چند روز قبل لاہور کے سروسز اسپتال سے ان کی رہائش گاہ جاتی عمرا منتقل کر دیا گیا تھا۔ جہاں ان کے علاج کے لیے گھر میں ہی علاج کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
