نئی دہلی —
بھارتی سپریم کورٹ ہفتے کی صبح ساڑھے دس بجے ملک کے ایک انتہائی پیچیدہ اور اہم مقدمے کا فیصلہ سنائے گی۔ اس بات کا اعلان جمعہ کی شام کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اچانک کیا گیا، حالانکہ ہفتے کو کام بند رہتا ہے۔
عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے ہفتے اور اتوار کو چھوڑ کر تمام کام کے دنوں میں 40 روز تک مسلسل سماعت کی تھی۔ 16 اکتوبر کو سماعت مکمل ہوئی تھی۔ اس وقت فیصلے کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔
چونکہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی 17 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں اس لیے اس سے قبل فیصلہ سنائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ توقع تھی کہ عدالت 13 یا 14 نومبر کو فیصلہ سنائے گی۔ لیکن، اچانک جمعے کی صبح کو فیصلہ سنائے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی پورے ملک میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے جمعہ کی صبح کو اتر پردیش کے چیف سکریٹری راجندر کمار اور پولیس سربراہ او پی سنگھ کے ساتھ ایک گھنٹے تک بند کمرے میں میٹنگ کی اور فیصلے کے پیش نظر ریاست میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
اتر پردیش کی حکومت نے پوری ریاست کے تمام تعلیمی اداروں اور تربیتی مراکز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایودھیا کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق وہاں بیس ہزار جوان تعینات ہیں۔ ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
متنازعہ عمارت کے آس پاس تمام گاڑیوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر نگرانی کے بھی خاص انتظامات کیے ہیں۔ اب تک سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے پر پچاس سے زائد مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور پندرہ سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
دہلی پولیس نے بھی سیکورٹی کا جائزہ لیا ہے۔ جو پانچ جج سماعت کرنے والے آئینی بینچ میں شامل رہے ہیں ان کی اور ان کے اہل خانہ کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ چیف جسٹس کو ’زیڈ پلس‘ سیکورٹی دی گئی ہے۔
بینچ میں جسٹس گوگوئی کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے (جو اگلے چیف جسٹس ہو رہے ہیں) جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبد النذیر شامل ہیں۔
تقریباً پورے ملک میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حساس شہروں اور مقامات پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
دارالحکومت دہلی میں بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام عبادت گاہوں کے تحفظ کے خاص انتظامات کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فیصلہ جو بھی آئے اسے سب تسلیم کریں۔ انھوں نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ فیصلے کو کسی کی جیت اور کسی کی شکست کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
دیگر سیاست دانوں اور ہندؤں اور مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے بھی ایسی ہی اپیل کی گئی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ارکان اور آر ایس ایس کے رہنماؤں نے بھی کچھ اسی قسم کی اپیل کی ہے۔
حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کل صبح ساڑھے دس بجے ایک اہم میٹنگ کرنے والی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، آر ایس ایس نے بھی ایک میٹنگ بلائی ہے۔
اس وقت تمام نیوز چینل اس نئی صورت حال پر مباحثہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ الہ آباد کے لکھنو بینچ نے 2010 میں متنازعہ 2-77 ایکڑ اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے ہندؤں کو اور ایک حصہ مسلمانوں کو دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف مسلمانوں اور ہندؤں کی جانب سے 14 اپیلیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھیں۔
خیال رہے کہ 22-23 دسمبر 1949 کی شب میں خفیہ طریقے سے بابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھ دی گئی تھیں۔ اس کے بعد انتظامیہ نے اس میں قفل لگا دیا تھا۔
1986 میں ایک عدالتی حکم سے قفل کھول دیا گیا تھا اور ہندو عقیدت مند اس کے اندر جا کر مورتیوں کی پوجا کرنے لگے تھے۔
وشو ہندو پریشد، آر ایس ایس اور بی جے پی نے رام مندر کے حق میں تحرک چلائی اور دسمبر 1992 میں بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کو وہاں اکٹھا کیا۔
بالآخر، انھوں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ اس کے بعد وہاں عارضی رام مندر بنا دیا گیا۔
