اقوام متحدہ کے لیے امریکہ کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دینے والی نکی ہیلی نے اپنی زندگی کا احاطہ کرنے والی آئندہ کتاب میں الزام عائد کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں شامل دو اعلی عہدیداروں نے انہیں صدر کی بعض پالیسیوں کی مخالفت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نکی ہیلی نے اپنی سوانح میں لکھا ہے کہ سابق وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن اور چیف آف سٹاف جان کیلی کے الفاظ میں ’’ خطرناک راستے‘‘ پر چل رہے تھے۔
اپنی کتاب ’’ ود آل ڈیو ریسپیکٹ‘‘ میں نکی ہیلی نے ٹلرسن اور کیلی کے درمیان ایک ملاقات کی تفصیل بیان کی ہے۔ دونوں شخصیات نے صدر ٹرمپ کے موسمیاتی تغیر سے متعلق پیرس معاہدے سے نکلنے اور دیگر کچھ فیصلوں کی مخالفت کی تھی۔

ہیلی لکھتی ہیں کہ سابق سیکرٹری ٹلرسن اور کیلی کا خیال تھا کہ وہ ملک بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن نکی یاد کرتی ہیں کہ دارصل دونوں اپنے خیالات مسلط کرنا چاہتے تھے۔ ان کے الفاظ میں ’’ میں اس پر حیرت زدہ تھی‘‘
سابق سفیر نکی ہیلی کی کتاب منگل کو اشاعت کے بعد منظر عام پر آ رہی ہے۔ لیکن ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک کاپی پیشگی حاصل کر لی ہے۔
