English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فضل الرحمان کی آنکھوں میں خون اترتا دیکھا ہے،مہر بخاری

القمر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق بات کرتے ہوئے خاتون صحافی مہر بخاری نے بتایا کہ میں نے مولانا فضل الرحمان کی آنکھوں میں خون اْترتا ہوا دیکھا۔ انہوں نے اپنے حالیہ کالم میں امیرجمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان سے ہوئی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے لکھا کہ سیاست اس وقت دو انتہاؤں پر کھڑی ہے۔ایک
انتہا وہ ہے جس کے کردار مولانا صاحب ہیں۔ آزادی مارچ اس وقت جس کیفیت میں مبتلا ہے، اْسے دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہے۔ میں نے یہ منظر کنٹینر میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ مولانا صاحب جو بازی کھیل رہے ہیں وہ اس کی ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ہر قیمت سے مراد، لاشیں، ملک میں انارکی، حتیٰ کہ استبدادی حکومت بھی۔مہر بخاری نے لکھا کہ ایک ملاقات کا احوال جس کے دو ورژن ہیں۔ مولانا صاحب بقلم خود یوں بیان کرتے ہیں کہ دھمکی بڑی سرکار نے نہیں انہوں نے بڑی سرکار کو دی ہے۔ بقول ان کے انہیں ملوکیت میں اسیری تو قبول ہے مگر اس حکومت میں ایسی آزادی ہرگز قبول نہیں ہے۔ مہر بخاری نے کہا کہ مولانا 85 سے اب تک پانچ حکومتوں کا حصہ رہے۔2002ء سے 2007ء تک بلوچستان میں ق لیگ کے ساتھ حکومت بنائی اور ساتھ مرکز میں کم سیٹوں کے باوجود حزب اختلاف میں بھی رہے۔مولانا صاحب سیاست کے کچے کھلاڑی تو تھے نہیں کہ ان سے توقع رکھی جاتی کہ وہ کسی دن اسلام آباد کی حدود میں 126 دن کے لیے آ بیٹھیں گے، سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر دیں گے، امپائر کی انگلی سے حکومت مسل دینے کے خواب دیکھیں گے۔ مولانا زیرک سیاستدان ہیں۔ ان سے اس انتہا کی توقع ہرگز نہیں۔ مہر بخاری نے کہا کہ جو سرد مہری دکھائی جا رہی ہے اس کے آگے اسلام آباد کی ٹھٹھرتی راتیں تو کچھ بھی نہیں۔ سیاست کا ماضی گواہ ہے، جب مخالف کے آنکھوں میں خون اترے تو سب سے پہلے جن ساتھیوں کے ساتھ پر تکیہ ہوتا ہے وہی رخ بدلنے لگتے ہیں۔میاں محمد نواز شریف کو اس کا تجربہ سب سے زیادہ ہے مگر پاکستان نیشنل الائنس کی تحریک سیاست کے ماضی کا وہ تلخ تجربہ ہے جسے سوائے سبق نہ سیکھنے والوں کے کوئی فراموش نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اپنے کالم میں مزید کہا کہ خبریں گردش میں ہیں کہ مریم نواز بھی ایک ہفتے کی تاخیر سے ابا کی تیمارداری کے لیے ملک سے روانہ ہو جائیں گی۔
مہر بخاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے