English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے کیوں نہیں نکل رہا؟

القمر

سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت کے متعلق تشویش ناک خبروں کے باوجود ابھی تک ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے کیوں نہیں نکالا گیا اور فائل ابھی تک مختلف اداروں کے درمیان کیوں گردش کر رہی ہے جبکہ طبی ماہرین اور مسلم لیگ نون کے قائدین یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں علان کے لیے بیرون ملک بھیجنے میں ہر لمحے کی تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ کا طریقہ کار کیا ہے؟ اس میں نام کیسے شامل کیا جاتا ہے اور اسے خارج کرنے کے مراحل کیا ہیں۔

ای سی ایل ہے کیا؟

ایگزٹ کنٹرول لسٹ جسے عرف عام میں ای سی ایل کہا جاتا ہے، ایک ایسی فہرست ہے جس میں ان افراد کا نام ڈالا جاتا ہے جنہیں کسی جرم یا الزام کے سبب ملک سے باہر جانے سے روکا جانا مقصود ہو۔

ای سی ایل کا قانون ایگزٹ فرام پاکستان کنٹرول آرڈیننس 1981 میں منظور کیا گیا تھا جس کی کوئی واضح پالیسی نہیں تھی۔ لیکن گزشتہ دور حکومت میں وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اس کی پالیسی تشکیل دی اور 2018 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے ای سی ایل ترمیمی بل کی منظوری دی۔

کسی شخص کا ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے لیے تین رکنی کمیٹی بنائی جاتی ہے جو وزیر داخلہ، وزیر قانون اور وزیر خزانہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ کمیٹی اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھیجتی ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد ایگزٹ فرام پاکستان کنٹرول آرڈیننس 1981 کے تحت ایسے افراد کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا جاتا ہے جو کسی جرم میں ملوث ہوں یا ان پر صرف الزام ہو۔

ای سی ایل کے لیے نام کون بھیجتا ہے؟

قانون کے مطابق مقدمات اور کرپشن میں ملوث کسی بھی شخص اور دہشت گرد کا نام، نفاذ قانون اور انٹیلی جینس اداروں کی تحریری سفارش اور عدالتی حکم پر اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اس قانون میں اگرچہ یہ تو بتایا گیا ہے کہ کون سے ادارے ای سی ایل میں نام شامل کرنے کی سفارش کر سکتے ہیں لیکن اس فہرست میں سے نام نکالنے کا اختیار صرف سیکرٹری داخلہ اور وزیر داخلہ کو دیا گیا ہے، اور اس حوالے سے قانون میں کئی سقم موجود ہیں۔

نام نکلے گا کیسے؟

پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ سوال سب سے اہم ہے کہ ای سی ایل سے نام نکلے گا کیسے؟ تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف علاج کی غرض سے باہر جانا چاہتے ہیں لیکن پانچ دن سے ای سی ایل سے نام نکالنے کی فائل وزیراعظم، وزارت داخلہ، نیب، میڈیکل بورڈ اور پھر دوبارہ انہی حکام کے درمیان گھوم رہی ہے لیکن ہر کوئی کلی ذمہ داری قبول کرنے سے اجتناب کر رہا ہے۔

ماضی میں کسی شخص کا نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے بعد وہ عمومی طور پر ہمیشہ کے لیے بیرون ملک جانے سے محروم ہو جاتا تھا کیونکہ نام نکالنے کا اختیار وزیرداخلہ اور سیکرٹری داخلہ کے پاس تھا،اور ان تک رسائی بہت مشکل تھی۔

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں وزارت داخلہ کے ایک افسر نے اپنے ایک عزیز کے خانگی جھگڑے میں طلاق ہونے پر ان کی بیوی کا نام ای سی ایل میں ڈلوا دیا۔ جب وہ خاتون ملک سے باہر جانے لگیں تو انہیں ایئر پورٹ پر گرفتار کر لیا گیا۔ تحقیقات ہونے پر پتا چلا کہ خاتون کے خلاف سرے سے کوئی مقدمہ ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد چوہدری نثار نے ای سی ایل پالیسی بنائی جس میں نام صرف چند اداروں کی سفارش پر شامل کیے جائیں اور اگر سفارش کرنے والے ادارے مقررہ مدت تک ای سی ایل کمیٹی کو مکمل شواہد پیش نہ کریں تو متعلہ شخص کا نام خود بخود ای سی ایل سے خارج ہو جائے۔ چوہدری نثار کے دور میں ہزاروں نام اس فہرست سے خارج کیے گئے، جن میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو یا تو وفات پا چکے تھے یا انہیں علم ہی نہیں تھا کہ ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ تشریح کی کہ وفاقی حکومت کا مطلب صرف وزیراعظم نہیں بلکہ کابینہ ہے جس کے بعد ای سی ایل سے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ کسی شخص کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری لی جائے گی۔

لیکن چونکہ کابینہ براہ راست کسی بھی معاملے کی چھان بین نہیں کر سکتی، اس لیے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں وزارت داخلہ کے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے یا نکالنے کے لیے اپنی سمری کابینہ کو بھیجتی ہے۔ منگل کے روز نواز شریف سے متعلق اسی کمیٹی کی سمری پر کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔

نوازشریف کیس میں کیا ہوا؟

نواز شریف کے معاملے میں ان کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات کے بعد حکومت نے فوری طور پر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن سابق وزیر اعظم کی صحت فوری طور پر سفر کرنے کے قابل نہیں تھی۔ ان کی حالت سفر کے قابل بنانے کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی خدمات حاصل کی گئیں کیونکہ فضائی سفر میں پلیٹ لیٹس کی کمی شدید نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

8 نومبر کو شہباز شریف نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وفاقی حکومت کو باضابطہ درخواست دی۔ اس پر پیش رفت جاری تھی کہ بعض ذرایع کے مطابق اس موقع پر شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کی ایک ٹوئٹ نے کام خراب کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ “خدا کے فضل سے شہباز شریف اپنے بھائی اور لیڈر کو وہاں سے نکال گیا جہاں سے ’’سلیکٹڈ‘‘ نے ٹی وی اور اے سی اتارنا تھا”۔

اسی دوران مسلم لیگ ن کے بعض قائدین کی طرف سے بھی ایسے بیانات آئے جو حکومت کے لیے تحقیر آمیز اور اپنے فاتح ہونے کا تاثر دے رہے تھے جس پر حکومتی عہدے داروں نے یہ فیصلہ کیا کہ ای سی ایل سے نواز شریف کا نام آسانی سے نہ نکالا جائے اور اس سلسلے میں تمام پروسیجر مکمل کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اسی وجہ سے اب یہ کیس پانچ روز کی تاخیر کے بعد وفاقی کابینہ میں پیش کیا جا رہا ہے اور اس عرصے کے دوران ان کی فائل کو مختلف محکموں کے درمیان زیر گردش رکھا گیا ہے۔

قوی امکان یہ ہے کہ نواز شریف کا نام منگل کو کابینہ کے اجلاس میں ای سی ایل سے نکال کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔ مریم اورنگزیب کے مطابق بدھ کے روز ایئرایمبولینس کا بندوبست بھی کر لیا گیا ہے جس کے بعد نوازشریف لندن روانہ ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے