پشاور(سید وزیر علی قادری)33ویں قومی کھیل پشاور میںشروع ہوگئے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے افتتاح کیا۔نیشنل گیمز میں بلوچستان کے 415 بوائز ،گرلز کھلاڑی مختلف کھیلوں میں صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ بلوچستان دستے کی قیادت چیف ڈی مشن رکن بلوچستان اسمبلی سابق فرسٹ کلاس کرکٹر مبین خان خلجی اور ڈپٹی چیف ڈی مشن ڈائریکٹر جنرل کھیل دْرا بلوچ نے کی،ڈائریکٹر یٹ آف اسپورٹس خیبرپختونخوا، پاکستا ن اولمپک ایسوسی ایشن اور صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے باہمی اشتراک سے قیوم اسپورٹس کمپلیکس پشاورمیں 9سال بعد منعقدہ تقریب میں قومی کھیلوں کی مشعل کا سفر قیوم اسٹیڈیم پر اختتام پزیر ہوا۔انٹرنیشنل کھلاڑیوں حلیمہ غیور ،زینب ، عائشہ، بہر کرم،خالد نور ، سابق عالمی اسکواش چیمپئن جان شیر خان نے مشعل سابق اولمپئن صلاح الدین کے حوالے کی۔جنہوں نے مشعل کو روشن کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 33ویں قومی کھیلوں کا افتتاح وزیر اعلی خیبر پختون خوا نے 12ربیع الاول کے روز کیا۔ ملک کے تمام صوبوں اور ڈیپارٹمنٹس کی ٹیموں نے مارچ پاسٹ پیش کیا۔ ٹیبلو اور قومی ترانہ بھی افتتاحی تقریب کا حصہ تھے۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔جشن ولادت نبی آخر الزماں کے دن ایونٹ کے انعقاد پر ملک کے اسپورٹس حلقوں کا احتجاج جاری رہا۔ یہ ہی نہیں پاکستان کے اولمپکس گیم کا درجہ پانے والے 33ویں قومی کھیلوں کی تشہیر سے اردو اور علاقائی زبان کو پاک رکھا گیا اور صرف انگریزی زبان میں خیر مقدی نعرے درج تھے جس پر اسٹیڈیم میں موجود شائقین نے حیرت کا اظہار کیا۔ملک سے آئے ہویے 10ہزار ایتھلیٹس اور آفشیلز کو شہر کے مختلف ہوٹلز میں ٹہرایا گیا ہے۔ ایونٹ میں نظم و ضبط کا فقدان نمایاں ہے۔ آفیلشز کھلاڑیوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آئے۔ پہلی مرتبہ حلف لیتے ہویے روایتی جملے ہدف کردیے گئے جس میں رب العزت کے نام حلف کا آغاز اور آخر میں اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو الفاظ بھی ہدف کردیے گئے۔ ریلوے کا دستہ لاہور سے خیبر میل کے زریعے پشاور پہنچا تو کوچ اور کھلاڑی اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر اپنے آفیشلز سے الجھ پڑے اور سفرمیں آنیوالی مشکلات پر احتجاج کرتے رہے۔ اس موقع پر ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کا داخلہ مکمل بند تھا۔ خیبر پختون خوا کے ایھٹلیٹس سب سے اچھے ٹریک سوٹ زیب تن کیے ہویے تھے۔تقریب میں پاکستان اسپورٹس اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹنٹ جنرل (ر) عارف حسن، صوبائی وزراء و دیگر شخصیات موجود تھیں۔ کھیلوں کے مقابلے 15نومبر تک جاری رہیں گے جبکہ اختتامی تقریب 16نومبر کو قیوم اسٹیڈیم پشاور میں منعقد ہوگی جس کے مہمان خصوصی گورنر خیبر پختون خوا ہونگے۔ سب سے زیادہ مقابلے پشاور میں ہی ہونگے۔ مختلف کھیلوں کی ٹیموں میں اختلافات سامنے آنے پر متنازعہ امور کی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کی میڈیا میں تشہیر نہیں کی گئی ۔ لگتا ہے کہ جس طرح ایک مرتبہ قومی گیمز کا پشاور مین انعقاد ہوا تھا اور کروڑوں روپے اخراجات آئے تھے کالعدم قرار دے دیے گئے اور اسلام آباد میں کراکر ان کو درست اور ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔ ایونٹ کے افتتاحی روز پاکستان اسپورٹس رائٹرز کے سیکریٹری امجد عزیز ملک کے ساتھ قیوم اسٹیڈیم میں قائم میڈیا سینٹر کا دورہ کیا اور انتظامات پر مبارکباد پیش کی ۔ ملک سے آئے ہویے صحافیوں کو تاحال کھیلوں کے مقابلوں کے شیڈول جس میں ایونٹ کا نام، مقام، وقت اور دیگر معلومات شامل ہیں نہیں حاصل ہوسکیں۔ اس کے علاوہ نتائج بھی بروقت نہیں مل پارہے۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختون خوا نے 33ویں قومی کھیلوں کے لیے18کروڑ کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ جو ملکی تاریخ میں سب سے مہنگے کھیلوں کے مقابلے کہلائے جائیں گے۔
