بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) مشرقی عراق کے شہر دیالیٰ میں داعش کے حملے کے نتیجے میں 4 عراقی فوجی ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ خانقین کے علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد جائے وقوع پر فوج کی اضافی کمک روانہ کر دی گئی۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں 5 فوجی اٹلی سے تعلق رکھتے ہیں، جو داعش کے خلاف کارروائی میں مقامی کرد ملیشیا کی معاونت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔اطالوی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فوجی قافلہ داعش کے خلاف آپریشن کے بعد واپس لوٹ رہا تھا کہ جنگجوؤں نے گھات لگا کر حملہ کردیا۔ حملے کے بعد سے 4 دیگر فوجی لاپتا ہیں، جنہیں مقامی ملیشیاؤں کی مدد سے تلاش کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب داعش کی ترجمان خبررساں ایجنسی اعماق پر جاری بیان میں تنظیم نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی۔ دہشت گرد تنظیم داعش کرکوک، دیالیٰ،موصل،صلاح الدین اور انبار نامی شہروں میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ متاثرہ علاقہ خانقین بغداد اور اربیل کے درمیان متنازع علاقہ ہے،جہاں زیادہ تر کرد عوام بستے ہیں۔ اس علاقے میں 2برس کے عرصے کے دوران شہریوں کے اغوا اور دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات پیش آئے۔ اس علاقے میں عراقی فورسز اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حشد الشعبی کارروائیاں کرتی رہی، جس کے باعث وہاں کا امن و امان تباہ ہوگیا ہے۔ دسمبر 2017ء میں عراقی فوج نے داعش کے خلاف آپریشن کے بعد دہشت گرد تنظیم کو جڑ سے ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا،تاہم اس کے کچھ ہی عرصے بعد داعش کی کارروائیوں نے تمام دعووں کو جھٹلادیا۔ خیال رہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں، جب عراقی حکومت پہلے ہی شدید سیاسی بحران کا شکار ہے۔ دارالحکومت بغداد اور دیگر شہروں میں پُرتشدد احتجاج جاری ہے، اور اس دوران 320 سے زائد شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔
