پشاور (نمائندہ خصوصی) پاکستان کی تاریخ کے سب سے مہنگے اور ملک کے سب سے بڑے ایونٹ قومی کھیل میں ہونیوالے مقابلوں کو دیکھنے سے مستقبل کے معماروں کو سیکورٹی کے نام پر قیوم اسپورٹس کمپلیکس داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ 33ویں قومی گیمز کے سلسلے میں کھیلوں کا جنون اور شوق رکھنے والے ننھے شائقین نے اس موقع پر جذباتی انداز میں نمائندہ خصوصی جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کا ہیرو وزیر اعظم بننے کے بعد کھیلوں سے اتنی بے رخی برتے گا ہمیں اندازہ نہیں تھا ۔ آپ ہمارے جذبات اعلی حکام تک پہنچائیں کہ کس طرح ہم کھیلوں میں دلچسپی لیں گے جبکہ پورے پاکستان سے آئے ہوئے کھلاڑی جن میں گرلز اور بوائز شامل ہیں اور ان کی تعداد 10ہزار کے لگ بھگ ہے ہم مختلف کھیلوں میں ان کی کارکردگی کو دیکھنے اسٹیڈیم آئے اور یہاں آکر سخت مایوسی ہوئی کہ سیکورٹی کی وجہ سے اندر نہیں جانے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے شہر میں منعقد ہونے والے 32سے زیادہ کھیلوں کے مقابلے ہورہے ہیں جس میں 14ٹیمیں حصہ لے رہی ہیںہم ان کو خوش آمدید کہنے آئے تھے ۔ واضح رہے کہ پشاور اور صوبہ خیبر پختون خوا مہمان نوازی کے لیے اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔
