جنوبی امریکا کے ملک بولیویا کی حزب اختلاف کی سینیٹر جینین عنز نےصدر اوو مورالس کے مستعفی ہونے کے بعد خود کو ملک کا عبوری صدر قرار دے دیا جبکہ جینین کی اپنی جماعت کے قانون سازوں نے ان کے اس اقدام کی مخالفت کردی ہے۔
جینین کی جماعت کے سینیٹرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جینین کا یہ اقدام غیر آئینی ہے لہٰذا ہم ایوان کی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔
واضح رہے کہ بولیویا میں متنازعہ صدارتی انتخابی نتائج کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد صدر اوومورالس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
سینیٹرجینین عنز نے کہا ہے کہ وہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھیں گی اور جلد ہی نئے انتخابات کا انعقاد کرائیں گی۔

