واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی اور امریکا کے درمیان پے در پے کئی تنازعات اور تناؤ کی کیفیت میں دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات ہوئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق تُرک صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کی دوپہر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اپنے ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے شام میں محفوظ علاقے کے قیام، ترکی مخالف کردوں کے خلاف فوجی کارروائی، روسی دفاعی نظام کی خریداری اور اس کے نتیجے میں انقرہ پر امریکی پابندیوں سمیت مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری مختلف اختلافات اور تناؤ کے باوجود یہ ملاقات مثبت اور خوش آیند رہی۔ ملاقات سے قبل ہی امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ دو طرفہ کشیدہ تعلقات میں بہتری پیدا ہو سکے گی۔ تاہم اسی دوران امریکی صدر کے مشیر قومی سلامتی رابرٹ او برائن نے ترکی پر روسی میزائل نظام خریدنے پر ممکنہ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا اشارہ بھی دیا تھا۔ یاد رہے کہ صدر اردوان منگل کی شب اپنے ہم منصبٹرمپ کی دعوت پر سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے تھے۔ اینڈریوز ائر بیس پر ترکی کے سفیرسردار کلچ، اقوام متحدہ میں ترکی کے مستقل نمایندے فریدون سنر لی اولو، امریکی پروٹوکول کے جنرل منیجرجام ہینڈرسن اور دیگر حکام نے ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ صدر اردوان کے ساتھ ان کی اہلیہ امینہ اردوان، وزیر خارجہ مولود چاوش اولو، وزیر خزانہ بیرات البراق، وزیر دفاع خلوصی اکار، وزیر تجارت رخسار پیک جان، انصاف وترقی پارٹی کے نائب چیئر مین ماہر انال، پارٹی کے ترجمان عمر چیلک، وزیر مواصلات فخر الدین آلتن اور صدارتی دفتر کے ترجمان ابراہیم قالن بھی ہیں۔ ائر بیس سے صدر اردوان اپنی قیام گاہ ہوٹل وِلارڈ پہنچے، جہاں تُرک شہریوں اور دیگر نے ان کا استقبال کیا۔
