اقوام متحدہ (اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدرتیجانی محمد باندے کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی جو مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مرکوز رہی جہاں گزشتہ 4 ماہ سے زاید عرصے سے بھارتی ظالمانہ فوجی محاصرہ جاری ہے۔ منیر اکرم نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد جنرل اسمبلی کے صدر کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں دنیا میں بھوک کے مکمل خاتمے ، خوراک کے تحفظ ،بہتر غذایت ،مستحکم زراعت کی ترقی اور سرمایہ کی غیر قانونی منتقلی کے حوالہ سے پائیدار ترقیاتی اہداف پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ذرائع کے مطابق پاکستانی مندوب نے جنرل اسمبلی کے صدر کو مقبوضہ وادی میں بھارت کے جاری مظالم سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر انسانی کرفیوکے 100دن گزرنے ، ہر طرح کی مواصلات پر سخت پابندیوں ، منظم غنڈہ گردی کے ساتھ مقبوضہ وادی سخت خوف وہراس کی حالت میں ہے جہاں معمول کی زندگی بحال نہیں ہوئی۔سفیر منیر اکرم نے کہاکہ بھارتی سیکورٹی فورسز نے ہزاروں کشمیریوں بالخصوص نوجوانوں کو گرفتار کیا جس کا مقصد کشمیریوں پر دبائو ڈالنا ہے انہوں نے جنرل اسمبلی کے صدر پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری عشروں پرانے اس مسئلہ کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے جو 2 ایٹمی ممالک کے درمیان فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔
