
بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی حکومت نے ایک ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے 1650مظاہرین کو رہا کردیا گیا، جب کہ مظاہرین کے معاملے میں غفلت برتنے اور غیرقانونی ہتھکنڈوں کے استعمال میں ملوث 66اعلیٰ اہل کاروں اور افسروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے بتایا کہ مسلح گروہ ملک میں جاری موجودہ کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اغوا کررہے ہیں۔ حدیثی نے کہا کہ نئے انتخابی قانون میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ دوسری جانب پیرس میں پریس کانفرنس میں عراقی وزیر دفاع نجات شمری نے کہا کہ عراق میں ایک تیسری طاقت مظاہرین کو ہلاک کرنے کی ذمے دار ہے، جس کے ہاتھوں 320سے زائد افراد کی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ شمری نے مزید کہا کہ عراقی فوج نے2اکتوبر کے بعد مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کا کام وفاقی پولیس کے حوالے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین اور سیکورٹی اداروں پرحملوں میں ملوث عناصر کسی تیسرے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عراقی سیکورٹی فورسز کے زیر استعمال رائفل سے ایک شخص کو 75سے 100میٹر کے فاصلے پر مارا گیا ہے، جب کہ کچھ مظاہرین کو ان سے 300میٹر کی دوری پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرانزک تحقیقات کے ذریعے ان کے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے اور ان کے جسموں سے نمونے نکالنے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ جس طرح کے اسلحہ سے مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ ہمارے سیکورٹی اداروں کے استعمال میں نہیں۔
