
دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں سرحد کے قریب ترکی کے زیر انتظام قصبے الباب میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں 20افراد شہید اور 50زخمی ہوگئے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق اور دیگر ذرائع نے بتایا کہ کار بم سے ایک ٹیکسی اسٹینڈ پر کھڑی بس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے نتیجے میں دیگر گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ دھماکا خیز مواد سے بھری کار کو مارکیٹ کے قریب بس اسٹینڈ پر کھڑا کیا گیا تھا اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑادیا گیا۔ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث مقامی حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ تاحال کسی بھی عسکری گروہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ ترکی اور اس کے حلیف شامی مزاحمتی تنظیموں نے 3 فوجی کارروائیوں کے بعد جنگ زدہ ملک کے سرحدی علاقے میں الباب سمیت کئی شہروں اور قصبوں کو داعش اور کرد جنگجوؤں سے آزاد کرایا تھا۔ تُرک فوج نے 2016ء، 2018ء اور رواں برس 3بار شام کے شمال مشرقی اور شمال مغربی سرحدی علاقے میں کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس نے حالیہ کارروائی اکتوبر میں کی تھی، اور 5 روز کے بعد کرد ملیشیا اور تُرک فوج کے درمیان امریکی یقین دہانی پر جنگ بندی ہوگئی تھی۔ ترکی کی اس فوجی دراندازی کا مقصد شام کے سرحدی علاقے میں ایک محفوظ علاقے کا قیام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں عرصے سے کرد جنگجوؤں کی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کسی شدت پسند گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ اس سے قبل تُرک فوج کی راس العین اور تل ابیض میں کارروائی کے جواب میں کرد جنگجوؤں نے گوریلا وار کی دھمکی دی تھی۔ کرد جنگجوؤں نے تُرک فوج اور اس کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں شمالی شام کے شہر تل ابیض میں ترکی کے حلیف مزاحمت کاروں کے زیر انتظام علاقے میں واقع ایک پرہجوم مارکیٹ میں بھی کار بم دھماکا کیا گیا تھا، جس میں 13شہری ہلاک اور 23زخمی ہوگئے تھے۔ دوسری جانب 11اکتوبر کو ایک حملے میں زخمی ہونے والا تُرک فوجی ہفتے کے روز اسپتال میں دم توڑ دیا۔
