English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی پولیس کے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر پر چھاپے

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کے وفاقی تفتیشی ادارے نے ایمنسٹی انٹرنیشنل پر غیرملکی مالی معاونت کے حوالے سے بھارتی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے اس اقدام کو مودی سرکار پر تنقید کا جواب قرار دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان کے مطابق سی بی آئی نے جمعہ کے روز جنوبی شہر بنگلور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ٹرسٹ کے دفاتر میں چھاپے مارنے کے بعد ان کی تلاشی لی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے سی بی آئی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انسانی حقوق کی تنظیم کے خلاف یہ کارروائی بھارتی وزارت داخلہ کی شکایت کے بعد کی گئی۔ سی بی آئی کے مطابق بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ سے مالی تعاون حاصل کر کے فارن کنٹریبوشن (ریگولیشن) ایکٹ 2010ء اور انڈین پینل کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی کی ہے۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا جب بھی بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتی ہے، تو اسے ہراساں کرنے کا کوئی نہ کوئی نیا طریقہ سامنے آجاتا ہے۔ رواں برس اگست میں دہلی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت منسوخ کرنے کے بعد سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مودی سرکارپر اس متنازع علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ مودی سرکار کو برطانوی مصنف آتش تاثیر کی بھارتی شہریت کی منسوخی کے فیصلے کے بعد سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل تنظیم نے اس حوالے سے مودی حکومت پر جنسی، نسلی اور قومی پس منظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا تھا۔ 2014ء میں نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا، جس کے بعد سے ہی ملک میں غیر سرکاری تنظیموں پر نگرانی سخت کر دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے