
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہر خان یونس میں بلا اشتعال فائرنگ اور غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 7فلسطینی زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی جارحیت کے بعد دو روز قبل ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ ہفتے کو علی الصبح اسرائیلی فوج کی طرف سے خان یونس میں فلسطینیوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 7 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔ اُدھر اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے باوجود بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز قابض فوج کی طرف سے کئی مقامات پر فضائی حملے کیے گئے تاہم ان کارروائیوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق صہیونی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ہفتے کو فلسطین کے علاقے غزہ سے اسرائیل پر 2 راکٹ داغے گئے، جس کے بعد اسرائیل نے کئی مقامات پر فضائی بمباری کی۔ اسرائیل کے جنوب میں واقع بڑے شہر بئر السبع میں اچانک سائرن بجنا شروع ہوئے۔ جس کے بعد اسرائیل کی فضائیہ نے غزہ میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔ رائٹرزکے مطابق جن مقامات پر بمباری کی گئی ان میں سے بعض حماس کی تنصیبات تھیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے شمال میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ٹھکانے پر 6اور غزہ کے شمال مغرب میں القسام کی بحری فورس کے ٹھکانے پر 9میزائل داغے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ پٹی کے شمال میں بھی مزاحمتی تنظیم کے ایک ٹھکانے کو کئی میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
