English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خيبرپختونخوا کے پانچ درياؤں پرڈيجيٹل ٹيلی ميٹری سسٹم نصب

پاکستان کی تاريخ ميں پہلی مرتبہ صوبہ خيبر پختونخوا ميں پانچ درياؤں اور دو نہروں پر خود کار ڈيجيٹل ٹيلی ميٹری نظام نصب کر ديا گيا ہے۔

خيبرپختونخوا کے محکمہ ريليف بحالی و آباد کاری کے مطابق صوبائی ڈيزاسٹر مينیجمنٹ اتھارٹی کے زيرانتظام صوبائی ايمرجنسی آپريشن سینٹر کے تحت اس منصوبے پر 6چھ کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔

محکمہ ريليف بحالی و آباد کاری کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام امريکہ سے درآمد کيا گيا ہے۔

يہ خود کار ٹيلی ميٹری نظام مردان میں جلالہ پل پر کلپانی نالہ پر، لوئر دیر میں چکدرہ پُل پر دريائے سوات پر، سوات میں خوازہ خيلہ پُل پر دريائے سوات پر، شبقدر میں منڈا ہيڈ ورکس پر، اپر دیر میں جبالوٹ پُل پر دريائے پنجکوڑہ پر، پشاور میں بڈھنی نالہ اور چارسدہ میں اديزی پُل پر دريائے کابل پر نصب کيا گيا ہے۔

اس نظام کے ذریعے درياؤں ميں سيلابی صورت حال، پانی کا بہاؤ اور سطح سے متعلق بر وقت معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ يہ منصوبہ ملک بھر ميں اپنی نوعيت کا منفرد منصوبہ ہے جو ديگر صوبوں کے لیے ايک رول ماڈل کی حيثيت رکھتا ہے۔

صوبائی ڈيزاسٹر مينیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان انور شہزاد کے مطابق نئے نظام سے درياؤں اور نالوں پر تشويشناک صورت حال پیدا ہونے سے پہلے ہی تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو بروقت مطلع کیا جا سکے گا۔

وائس آف امريکہ سے گفتگو میں انور شہزاد نے بتايا کہ نصب شدہ نظام کو موبائل فون اور کمپيوٹر سے کنٹرول کيا جاتا ہے۔

ان کے مطابق پہلے اس سسٹم کو آزمائشی بنيادوں پرنصب کيا گيا تھا تاہم ڈيجيٹل ٹيلی ميٹری سسٹم کی کاميابی کے بعد اب اسے پورے صوبے کے ندی نالوں پر نصب کیا جا رہا ہے جس سے صوبے بھر ميں سيلابی صورت حال سے متعلق پيشگی اور بر وقت اطلاع سے نقصانات کو کم کرنے ميں مدد ملے گی۔

پاکستان کا شمار ماحولياتی تبديلی سے شدید متاثرہ ممالک ميں ہوتا ہے اور يہی وجہ ہے کہ ناگہانی آفات اور سيلابی ريلوں سے شہريوں کے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

خيبرپختونخوا ميں 2010 میں سيلاب سے نہ صرف مختلف علاقے مکمل طور پر زير آب آگئے تھے بلکہ ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

خیبر پختونخوا کے ڈائريکٹر موسميات سيد مشتاق علی شاہ نے وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خود کار ٹيلی ميٹری منصوبے پر سال 2010 سے کام جاری تھا کيونکہ اس تباہ کن سيلاب کے بعد سے ڈپارٹمنٹ کے پاس بہت ساری جگہوں کا ڈيٹا نہیں تھا تاہم اب اس نظام سے يہ اندازہ لگايا جا سکے گا کہ کتنے ملی ميٹر بارش ہوئی جبکہ بارش کے بعد پانی کون کونسی نہروں اور درياؤں ميں شامل ہوا۔

ڈائريکٹر موسميات کے مطابق اس نظام کے نصب کیے جانے کے بعد اب انہيں بارش کے پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار فوری معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ بارش کی مقدار ريکارڈ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ان کے بقول اس نظام کے تحت ضلعی انتظاميہ، وزارت آب پاشی، صوبائی ڈيزاسٹر مینيجمنٹ اتھارٹی سمیت زير آب یا نشیبی علاقوں مثلاً پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے مکينوں کو بر وقت آگاہ کيا جا سکے گا تاکہ وہ بغير کسی جانی نقصان کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکيں۔

سيد مشتاق علی شاہ کے مطابق صوبہ خيبر پختونخوا موسمياتی تبديلی کی ضد ميں ہے۔ اگر گزشتہ 20 سال کے اعداد و شمار کا جائزہ ليا جائے تو موسمياتی تبديلی کے باعث مختلف علاقوں ميں سيلابی ريلوں اور آندھيوں کی وجہ سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق حکومت اس ضمن ميں زيادہ سے زيادہ جنگلات لگانے ميں مصروف ہے جس سے آنے والے سالوں ميں ممکنہ تيز سيلابی ريلوں کو روکا جاسکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے