English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جے یو آئی کے دھرنے‘ اہم قومی شاہرائیں بند‘کوئٹہ میں مذاکرات ناکام

حب : جے یو آئی کے کارکنان حب چوکی پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں
حب : جے یو آئی کے کارکنان حب چوکی پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں

کوئٹہ،سکھر،کراچی(صباح نیوز+آن لائن+ اسٹاف ر پورٹر) ملک کے مختلف مقامات پر اتوار کوجے یو آئی(ف) کے دھرنے چھوتے روز بھی جاری ر ہے ‘ اہم قومی شاہرائیں بند‘کوئٹہ میں انتظامیہ کے دھرنے کی جگہ کی تبدیلی کے معاملے پر مقامی ر ہنمائوں سے مذاکرات ناکام۔تفصیلات کے مطابق سکھر کے قریب قومی شاہرہ ٹھیڑیی بائی پاس پرجمعیت علمائے اسلام (ف)کے زیر اہتمام مولانا فضل الرحمن کی ہدایات پرپلان بی کے تحت چھوتے روز بھی احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ شرکاء دھرنے کی جانب سے قومی شاہراہ کو مکمل بند کیا گیا جس کی وجہ سے آنے اور جانیوالی مسافر گاڑیاں پھنس گئیں اور مسافروں کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ شرکا ء دھرنے کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور حکمرانوں کے خلاف شدید نعریبازی بھی کی گئی ۔ دھرنے میںعلامہ راشد محمود سومرو نے خصوصی شرکت کی اور کئی گھنٹے کارکنان کے ہمراہ دھرنے پر بیٹھے رہے ۔شرکاء اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ الحمد اللہ پلان A اورپلان Bکامیاب ہوئے ہیں، بہت جلد عمران خان استعفا دے دیں گے ۔علاوہ ازیںحب ریور روڈپر بھی دھرنا دیا گیا۔جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عمر صادق،مولانا غیاث ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو ہمارے دھرنوں پر اعتراض ہے جبکہ خود 126 دن کا دھرنا دیا تھا،پی ٹی ٓآئی نے اسلام آباد میں 126 دن کے اپنے دھرنے میں فحاشی پھیلائی، ان کے دھرنے میں ناچ گانے کی محفلیں سجائی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس نااہل حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے راستوں میں بیٹھے ہیں، اسلام دشمن حکومت کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔دوسری جانب آر سی ڈی شاہراہ پر دھرنے کے باعث کوئٹہ تفتان روڈ بند ہوگئی جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جب کہ چمن میں جے یو آئی(ف)اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیراہتمام کوئٹہ چمن شاہراہ پر دھرنا دیا گیا ۔احتجاج اور دھرنے کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ پر آمدورفت معطل رہی جبکہ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔احتجاج کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت معطل ہوگئی جبکہ بین الاقوامی شاہراہ کی بندش سے مال بردار تجارتی گاڑیاں پھنس گئیں۔سیکو رٹی حکام اور مقامی انتظامیہ کے مظاہرین سے مذاکرات ناکام ہوگئے جبکہ انہوں نے دھرنا کا مقام تبدیل کرنے سے بھی انکار کردیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے