تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں 50 فیصد سے زائد اضافے پر عوام سڑکوں پر نکل آئے، سرکاری عمارتیں بھی نذر آتش کرڈالیں
مظاہرن کو منتشر کرنے کیلئے پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں، وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافے کے خلاف احتجاج پٍُرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے باسیج فورس کے ہیڈ کوارٹرز پر بھی ہلہ بول دیا جبکہ بینک کی عمارت سمیت کئی سرکاری عمارتیں جلا دیں۔ جھڑپوں کے دوران مزید 12 مظاہرین ہلاک ہوگئے جبکہ ایرانی فوج کا ایک افسر بھی مارا گیا ہے، فورسز نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دی ہیں، آیت اللہ خامنہ ای نے تیل و گیس قیمتوں میں اضافے کی تائید کی ہے اور احتجاج کرنے والوں کو فساد سے باز رہنے کے لیے کہا ہے جبکہ امریکا نے مظاہرین کو اکسانا شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ایران میں تیل و گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کردیا گیا جس کے بعد ایک لیٹر تیل کی قیمت 15 ہزار ایرانی ریال (ڈھائی امریکی ڈالر) ہوگئی ہے، اس کے خلاف جمعہ سے احتجاج شروع ہوا جو مختلف شہروں میں پھیل گیا ہے گزشتہ تین روز کے دوران فورسز سے جھڑپوں میں 29مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 12 گزشتہ روز نشانہ بنے جبکہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق مغربی شہر کرمان شاہ میں بلوائیوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا ہے۔ صوبائی پولیس سربراہ علی اکبر جاویدان کے مطابق شہر میں بدامنی کے دوران میں میجر ایراج جواہری مسلح حملہ آوروں کے ساتھ جھڑپ کے دوران مارے گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں سیکورٹی فورسز نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں اور اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے جبکہ فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایرانی سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان مختلف شہروں میں اتوار کو جھڑپوں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسنا کے مطابق پولیس نے یزو شہر میں مظاہروں کے دوران چالیس افراد کو گرفتار کرلیا ہے، تاریخی شہر بام میں حکام نے 15 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔

