English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نہر سوئیز کی کھدائی کو ڈیڑھ صدی بیت گئی

نہر سوئیز کی کھدائی کو ڈیڑھ صدی بیت گئی

عالمی سطح پر فن تعمیرات کا عجوبہ کہلانے اور دو سمندروں کو جوڑنے والی نہر سوئیز کے افتتاح کو ڈیڑھ سو سال ہو گئے ہیں لیکن مصر کی اپنی اس ریاستی ملکیت سے توقعات آج بھی مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔
بحیرہ روم اور بحیرہ احمر نامی دو سمندروں کو ملانے والے اور انسانوں کے تعمیر کردہ اس آبی راستے کو اکتوبر 1956ء میں اس دور کے مصری صدر جمال عبدالناصر نے ریاستی ملکیت میں لینے کا جو اعلان کیا تھا، اس پر مصر میں تو بہت زیادہ خوشیاں منائی گئی تھیں لیکن یورپ میں اس اقدام پر ناامیدی کا اظہار کیا گیا تھا۔
نہر سوئیز کی کھدائی کے بارے میں کئی زبانوں میں مواد موجود ہے۔ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں 10 لاکھ مصریوں نے حصہ لیا، جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بنے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک شب و روز جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 193.3 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی، جس کی چوڑائی 280 میٹر اور گہرائی 22 میٹر ہے۔
یہ آبی راستہ آج بھی مصر کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ مصر میں قومیائے جانے سے پہلے اس نہر کی ملکیت زیادہ تر برطانوی فرانسیسی کمپنی سوئیز سوسائٹی کے پاس تھی۔ شروع میں برطانیہ اور فرانس نے اس دور کی قاہرہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے اس اقدام سے روکنے کی کوشش کی تھی۔
اسرائیل کی مدد سے برطانوی فرانسیسی فوجی قبضہ
جب یہ مذاکراتی کوششیں ناکام ہو گئیں، تو برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی مدد سے مصر کے سوئیز کینال والے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد معاملہ ایک تنازع کی صورت میں جب اقوام متحدہ میں پہنچ گیا، تو امریکا اور سابقہ سوویت یونین کے مشترکہ دباؤ کے باعث فرانسیسی، برطانوی اور اسرائیلی دستے اس مصری علاقے سے واپسی پر مجبور ہو گئے تھے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نہر سوئیز مصر کے لیے شروع ہی سے قومی اہمیت کی ایک علامت ہے اور قاہرہ اسے اپنی ریاستی پیش رفت کا استعارہ بھی سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر جمال عبدالناصر کی طرف سے اس نہر کو قومیا لینے کے فیصلے کا ایک محرک عرب قوم پسندی بھی تھا۔
صدیوں پرانا خواب
سوئیز کینال کی تعمیر سے قبل بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو جوڑنے والے انسانوں کے تعمیر کردہ کسی آبی راستے کا تصور تو صدیوں پرانا تھا۔ سولہویں صدی میں عثمانی ترکوں نے بھی ایسا سوچا تھا۔ پھر 1798ء میں نپولین کے دور میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات بھی مصر گئے تھے ، جہاں انہوں نے اپنے ابتدائی تعمیراتی تخمینے لگا کر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد برطانوی ماہرین کا تجربہ اور اس کا نتیجہ بھی ایسا ہی رہا تھا۔
اس منصوبے پر عملی پیش رفت فرڈینانڈ دے لَیسیپ نے کی تھی۔ اس نہر کی تعمیر کے لیے شروع میں ہزاروں یورپی کارکن وہاں لائے گئے تھے ۔ پھر جب وہ بھی کم پڑ گئے ، تو اس دور کے مصری حکمران محمد سعید نے 1861ء میں بالائی مصر سے مزید تقریباً 10 ہزار کارکنوں کو زبردستی بلوایا، جنہوں نے اس منصوبے میں مدد کی۔ اس کے ایک سال بعد اس پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے مزید 18 ہزار کارکن بلانا پڑے تھے ۔
حیران کن اعداد شمار
نہر سوئز کی تعمیر کے منصوبے نے اس دور کے مصر کو بھی بہت زیادہ بدل دیا تھا۔ اس نہر کے کنارے آباد ہونے والے شہروں میں سے پورٹ سعید ایک ایسا بڑا تجارتی مرکز بن گیا، جس کا رابطہ باقی ماندہ ساری دنیا کے تجارتی نیٹ ورک سے قائم ہو گیا تھا۔ شروع میں اس نہر کو ’ہائی وے آف دا برٹش ایمپائر‘ کا نام دیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے لندن اور ممبئی کے درمیان سمندری فاصلہ تقریباً 20 ہزار کلومیٹر سے کم ہو کر ساڑھے گیارہ ہزار کلومیٹر رہ گیا تھا۔ اس سے جہاز رانی کی بین الاقوامی صنعت کو بھی بہت توقی ملی تھی۔
17 نومبر 1869ء کو افتتاح
1870ء میں اس آبی راستے سے 486 بحری جہاز گزرے تھے ، جن میں تقریباً27 ہزار مسافر سوار تھے ۔ 1913ء میں ان بحری جہازوں کی تعداد تقریباً 5100ہو گئی تھی، جس میں سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بھی تقریباً 2 لاکھ 35 ہزار بنتی تھی۔
بحری آمد و رفت کی اس ترقی سے اس نہر کے باقاعدہ افتتاح کے وقت اس دور کے مصری حکمران اسماعیل پاشا کی طرف سے 17 نومبر 1869ء کے روز کہی جانے والی یہ بات بھی سچ ثابت ہو گئی تھی، ’’’میرا ملک اب صرف افریقا کا حصہ نہیں رہا۔ میں نے اسے یورپ کا حصہ بھی بنا دیا ہے ۔‘‘
سالانہ اربوں ڈالر کی آمدن
نہر سوئیز کو مزید چوڑا کرنے کے جس منصوبے پر کام 2015ء میں مکمل ہو گیا تھا، اس کے بعد سے اس آبی راستے کی ٹرانسپورٹ کی اہلیت بھی تقریبا ً دگنی ہو چکی ہے ۔ پہلے اگر روزانہ تقریباً صرف 49 بحری جہاز ہی اس نہر سے گزر سکتے تھے ، تو آج یہ تعداد 100 ہو گئی ہے ۔
مصر کے لیے یہ نہر مالیاتی حوالے سے کتنی اہمیت کی حامل ہے ، اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مالی سال 2018ء اور 2019ء میں قاہرہ کو اس سے ہونے والی آمدنی کا تخمینہ تقریباً 6 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔ لیکن اگر مصر کی نہر سوئیز سے وابستہ ریاستی توقعات کو دیکھا جائے تو شمالی افریقا کی اس ریاست کا خیال یہ ہے کہ وہ آج بھی اس نہر سے اتنا زیادہ فائدہ نہیں اٹھا رہی، جتنا کہ ممکن ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے