کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے کہا ہے کہ کالا پانی نیپال، بھارت اور تبت کے مابین سہ فریقی مسئلہ ہے اور بھارت کو فوری طور پر وہاں سے اپنی فوج ہٹا لینی چاہیے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کے پی اولی نے اتوار کے روز کہا کہ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب نیپال کے وزیر اعظم نے بھارت کے نئے سرکاری نقشے سے پیدا ہونے والے تنازع پر عوامی طور پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے کیوں کہ بھارت نے نئے نقشے میں کالا پانی کو اپنے علاقے کے طور پر پیش کیا ہے ۔ کالا پانی نیپال کے مغربی سرے پر واقع ہے۔ وزیر اعظم کے پی اولی کے بیان پر فوری طور پر بھارت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ نیپال کی سرحد پر بھارت کے نئے نقشے میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ کے پی اولی نے اتوار کے روز نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے نیپال یوتھ وِنگ نیپال یوا سنگم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کے قبضے میں نہیں رہنے دیں گے ۔ بھارت یہاں سے فوری طور پر نکلے ۔ تاہم انہوں نے نیپال کی جانب سے ایک ترمیم شدہ نقشہ جاری کرنے کے مشورے کو مسترد کر دیا۔ واضح رہے کہ بھارت کے نقشے میں کالا پانی کو شامل کیے جانے پر نیپال میں کئی ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں اور اس معاملے پر حکمران جماعت اور حزب اختلاف دونوں متحد ہیں۔ قبل ازیں نیپال کی وزارت خارجہ نے 6 نومبر کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے ۔ نیپالی کانگریس کے ترجمان وشو پرکاش شرما نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پارٹی کے سربراہ شیر بہادر دیوبا نے آل پارٹی میٹنگ میں کہا ہے کہ جس نیپالی سرزمین پر بھارتی فوجی ہیں انہیں وہاں سے جانے کے لیے کہا جائے۔
