
بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی دارالحکومت بغداد میں سرکاری عمارتوں اور غیر ملکی سفارت خانوں کے علاقے گرین زون کے قریب میزائل حملہ کیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق گرین زون کے قریب 3 میزائل گرائے گئے، تاہم آخری اطلاعات تک حملہ کرنے والوں سے متعلق معلومات نہیں ملیں۔ دریں اثنا عراق میں مہنگائی کے خلاف گزشتہ ماہ سے احتجاج جاری ہے، اس دوران مظاہرین نے گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر انتہائی اہم بندرگاہ ام قصر کا داخلی راستہ بند کر دیا۔ ام قصر عراق کی سب سے اہم خلیجی بندرگاہ ہے ۔ عراق میں اناج، سبزیوں، تیل اور چینی کی درآمدات و برآمدات کے لیے یہی بندرگاہ استعمال کی جاتی ہے ۔ چند روز پہلے بھی مظاہرین نے اس کا داخلی راستہ بند کر دیا تھا، جس سے عراقی حکومت کو 6 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ حکومت کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں میں اب تک تقریباً 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اتوار کے روز دارالحکومت بغداد میں دریائے دجلہ پر واقع احرار پل پر حکومت مخالف مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران پرتشدد واقعات میں ایک شخص ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ دوسری جانب خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی خفیہ ایجنسی کی سیکڑوں دستاویزات افشا ہوئی ہیں، جن کے مطابق ایرانی خفیہ ایجنسی اور فوج کا عراق میں وسیع تر اثر و رسوخ قائم ہو چکا ہے ۔ خفیہ دستاویزات پر مشتمل رپورٹ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز شائع کی ہیں۔ اخبار کے مطابق انہوں نے تقریباً 700 صفحات پر مشتمل خفیہ رپورٹوں کا جائزہ لیا ہے اور ان میں سے زیادہ تر 2014ء سے 2015ء کے درمیان ایرانی وزارت انٹلیجنس اینڈ سیکورٹی کی جانب سے تیار کی گئی تھیں۔
