
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً ایک ہزار مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں 300 فیصد اضافے کی وجہ سے جمعے کے دن شروع ہونے والے مظاہرے گزشتہ روز بھی جاری رہے۔ اس دوران تہران، تبریز، مشہد، آہواز، اصفہان، یزد، کیرمان اور کریچ سمیت ملک بھر میں 1080 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ جبکہ اس دوران 100 سے زائد بینکوں اور 50 سے زائد دکانوں اور پٹرول پمپوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ تقریباً ایک ہزار مظاہرین کو سیکورٹی فورسز کی طرف سے حراست میں لے لیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی سیکورٹی کونسل نے حالیہ مظاہروں کی وجہ سے انٹر نیٹ کی ترسیل منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے علاوہ تہران کے اہم تجارتی مراکز بھی بند رہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 40 ہو چکی ہے۔ مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین کئی مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ دوسری جانب امریکا نے ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور مواصلاتی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن حکومت ایران میں پرامن احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔ امریکا نے الزام عائد کیا ہے کہ تہران حکومت عوام کے بجائے میزائل اور جوہری پروگرام پر رقوم خرچ کررہی ہے جبکہ ایران نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا فساد پھیلانے والوں کی حمایت ترک کرے۔ علاوہ ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے احتجاجی مظاہروں کے دوران خبردار کیا ہے کہ ملک میں بد امنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے روحانی کا کہنا تھا کہ احتجاج عوام کا حق ہے لیکن احتجاج بلوے سے مختلف ہے۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی ایرانی رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے ایک خطاب میں حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا تھا اور ساتھ ہی اس کی راشن بندی بھی کردی گئی تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدام کا مقصد نقدی سے محروم شہریوں کی مدد کرنا ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام سے ملک کو سالانہ تین سو کھرب ریال ( 2 ارب 55 کروڑ ڈالر) کی بچت ہوگی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال مئی میں 2015ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس کے بعد سے ایرانی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور تہران حکومت اب اپنی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے تیل کی قیمت میں اضافے جیسے سخت فیصلوں پر مجبور ہے۔
