جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم یونیسف نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ رواں سال کے دوران اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں اب تک 59فلسطینی بچے شہید اور 3ہزار 472زخمی ہوئے۔ قابض فوج کے ہاتھوں ہرماہ اوسطاً200 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا جاتا ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کے ساتھ غیر انسانی برتائو عام ہے۔ یونیسف کے علائی ڈائریکٹر ٹیڈ شیبن کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بچوں کے حقوق کے حوالے بہتری آئی، تاہم فلسطین میں بچوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں 2کروڑ 90لاکھ بچے عدم مساوات کا شکار ہیں۔ 2018ء کے دوران لڑائیوں میں 1190بچے لقمہ اجل بنے، جب کہ 1847زخمی ہوئے۔ اس دوران 1272 بچوں کو گرفتار کیا گیا۔دوسری جانب ایک ہفتے کے دوران فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 37فلسطینی شہید ہوئے۔ ان میں سے 36فلسطینی صرف 3روز کے اندر غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں میں شہید ہوئے، جب کی ایک فلسطینی کو غرب اردن میں فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔
