دکانیں بند ہونے سے بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے، حکومت موٹر سائیکل انڈسٹری پر خصوصی توجہ دے، محمد احسان گجر
بجلی اور خام مال مہنگا ہونے اور مختلف قسم کے ٹیکسوں سے صنعت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، صدر موٹر سائیکل ڈیلرز ایسوسی ایشن
کراچی (کامرس رپورٹر) حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آٹو انڈسٹری بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، پاکستان میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی موٹر سائیکل کی صنعت بھی حکومت کے بے جا ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی وجہ سے بحران میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔ کراچی موٹر سائیکل ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد احسان گجر نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کراچی بالخصوص اکبر روڈ کی مارکیٹ میں موٹر سائیکلوں کی فروخت میں نمایاں کمی ہوگئی ہے اور بہت سے دکاندار دیوالیہ ہو رہے ہیں اور دکانوں کا کرایہ بھی نہیں نکال پارہے ہیں جس کی وجہ سے دکانیں خالی ہو رہی ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، یہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔ محمد احسان نے بتایا کہ اس وقت سب سے زیادہ پریشان مزدور طبقہ اور چھوٹے دکاندار ہیں جنہوں نے مارکیٹ میں کرائے پر دکانیں حاصل کرکے اپنا کاروبار شروع کیا تھا لیکن موٹر سائیکلوں کی فروخت نہ ہونے سے وہ معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں اور دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ محمد احسان نے بتایا کہ بجلی اور خام مال مہنگا ہونے اور امپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ اور مختلف قسم کے اضافی ٹیکسز سے انڈسٹری کے لوگ پریشان ہیں جبکہ کرپٹ مافیا کی غنڈہ گردی، رشوت کی بھرمار اور واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل کی صنعت زبوں حالی کا شکار ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جس حساب سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور صنعتکار دیوالیہ ہو رہے ہیں حکومت اگر آٹو انڈسٹری پر فوری توجہ نہ دی تو ملکی معیشت پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ موٹر سائیکل کی صنعت پر توجہ دے کیونکہ موٹر سائیکل کی صنعت ملکی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

