کابل (صباح نیوز)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے شدت پسند تنظیم داعش کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے خلاف فتح کا اعلان کیا ہے۔افغان صدر نے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا کہ جب چند گھنٹے قبل طالبان نے 2 غیرملکی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔ افغان آفیشلز کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران داعش کے 600سے زاید شدت پسندوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ افغان حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق آفیشلز کا کہنا ہے کہ افغان اور اتحادی افواج کے فضائی حملوں، فنڈز کی کمی اور گرتے ہوئے مورال کے سبب وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جلال آباد میں عمائدین اور آفیشلز کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل کسی کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ ہم ان کے خلاف کھڑے ہوں اور آج ہم داعش کی تباہی کا اعلان کر رہے ہیں،داعش کے شدت پسند ہتھیار ڈال چکے ہیں لہٰذا حکام ان شدت پسندوں کے خاندانوں سے بہترین رویہ اختیار کریں۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے قبضے میں جو شدت پسند موجود ہیں وہ ایران، تاجکستان، پاکستان، ازبکستان، آزربائیجان، قازقستان اور مالدیپ کے باشندے ہیں۔تاہم طالبان نے افغان صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے داعش کی تباہی کو افغان طالبان کا کارنامہ قرار دیاہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان صدر اشرف غنی کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کابل انتظامیہ کا داعش کی شکست میں صفر فیصد کردار ہے اور ننگرہار کے قابل فخر عوام اس کے گواہ ہیں۔یاد رہے گزشتہ ماہ امریکا نے اعلان کیا تھا کہ شام میں امریکی فوج کی کارروائی کے دوران داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی نے خود کو مار کر ختم کر لیا۔
افغان صدر
