English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایک لاکھ سے زائد مہاجر سے بچے امریکی مراکز میں قید

القمر

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران اب تک تقریباً ایک لاکھ سے زائد بچے امریکی حراستی مراکز میں قید ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 80 ممالک میں قید ایسے بچوں کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہے۔ یہ بات عالمی ادارے کی جانب سے آزادی سے محروم بچوں سے متعلق کیے جانے والے ایک جائزے میں کہی گئی ہے۔ جنیوا میں نیوز کانفرنس کے دوران رپورٹ مرتب کرنے والے اقوامِ متحدہ کے اہلکار مینفریڈ نووک نے بتایا کہ امریکا بچوں کے حقوق اور ان کی آزادی کو یقینی بنانے کے 1990ء کے کنونشن کا حصہ نہیں، تاہم اس کے باوجود یہ کنونشن ممالک کو پابند کرتا ہے کہ بچوں کے ساتھ ناروا اور غیر انسانی سلوک سے گریز کریں۔ مینفریڈ نووک نے بتایا کہ امریکی حراستی مراکز میں وہ بچے قید ہیں جنہوں نے انفرادی طور پر یا اپنے اہل خانہ کے ساتھ میکسیکو کے بارڈر سے امریکہامیں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان بچوں کو والدین سے الگ کر کے دوسرے حراستی مراکز میں قید کرنے کا سلسلہ شروع کیا جو کہ سراسر زیادتی اور غیر انسانی اقدام ہے اور اسے دہرائے جانے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ نووک کے بقول ان بچوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے والدین کہاں قید ہیں اور ان بچوں کے والدین کو بھی عرصہ دراز سے اپنے بچوں کا کوئی علم نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا انتہائی محتاط اور باوثوق ذرائع سے مرتب کیا گیا ہے جس کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد ایک لاکھ 3 ہزار ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے 80 ممالک میں غیر قانونی نقل مکانی کے الزام میں 3 لاکھ 30 ہزار بچے قید ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے