English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نواز شریف کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں‘ وفاقی وزیرقانون

پاکستان میںکوئی بھی قیدی جس کا علاج ملک میں نہیں ہوسکتا وہ باہر جاسکتا ہے‘ فروغ نسیم
زرداری کی طرف سے بیرون ملک علاج کے لیے کوئی درخواست موصول ہوتی ہے تو اس پر بھی غور کریں گے
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ نواز شریف کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ، پاکستان میں کوئی بھی قیدی جس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا وہ باہر جاسکتا ہے۔ زرداری کی طرف سے بیرون ملک علاج کے لیے کوئی درخواست موصول ہوتی ہے تو اس پر بھی غور کریں گے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں فروغ نسیم نے کہا کہ کا بینہ نے پہلے ہی نوازشریف کو چار ہفتے کے لیے ایک بار جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا، انڈیمنٹی بانڈ بیل بانڈ نہیں ہے، انڈیمنٹی بانڈ طلب کرنا کابینہ کا مشترکہ فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ نہ سہی لیکن شریف برادران نے عدالت کے سامنے کسی اور انڈر ٹیکنگ کو مان لیا ہے‘وزیر قانون نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت پر عبوری حکم دیا ہے، عبوری آرڈر پر سپریم کورٹ 99 فیصد اپیل نہیں لیتی‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف واپس نہ آئے تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف توہین عدالت کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔فروغ نسیم نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے یہ بات تسلیم کی کہ نوازشریف کو ایک بار جانے کی اجازت ہے، اگر ہم سمجھیں گے کہ وفاقی حکومت کو اپیل کرنی ہے تو ہم ضرور کریں گے، اپیل کا موقع موجود ہے. انہوں نے کہا کہ اس وقت اپیل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ متعدد فیصلے کرچکی ہے، جیسے عبوری آرڈر میں اپیلیں نہیں سنے گی، جب جنوری میں اس کیس کا فیصلہ ہوگا تو ہم تب بھی اس پر اپیل کرسکتے ہیں۔وزیر قانون نے مزید کہا کہ عمران خان کا احتساب کا ایجنڈا ہے، ایک کرپشن فری سوسائٹی بنا سکے تو پاکستان اگلے لیول پر جاسکتا ہے‘انہوں نے کہا کہ پاکستان مین زیادہ تر تباہی اسی لیے ہوئی کہ اربوں کی منی لانڈرنگ ہوتی رہی، کک بیکس لیے جاتے رہے، اب یہ تمام چیزیں نہیں ہورہی اس لیے معیشت کو استحکام ملا ہے. فروغ نسیم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی قیدی جس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا وہ علاج کی غرض سے باہر جاسکتاہے، لیکن علاج کا خرچہ ریاست نہیں دے رہی‘انہوں نے کہاکہ جب اس قسم کا کیس عدالت میں چلا جاتا ہے تو وہ شخص عدالت کی تحویل میں ہوتاہے، فائنل فیصلہ آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ قانونی چارہ جوئی کرنی ہے یا نہیں۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کے لیے حکومت کی 4 ہفتے کی اجازت تسلیم کی، اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف پر توہین عدالت عائد ہو گی. انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس توہین عدالت کا کوئی اختیار نہیں، یہ عدالت کا اختیار ہے، حکومت کا نواز شریف کے لیے کیے گئے فیصلے کا بیشتر حصہ عدالت عالیہ میں تسلیم کیا گیا ہے‘وزیر قانون نے کہا کہ کرمنل جسٹس کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے، عمر رسیدہ، معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی فہرستوں کی تیاری کا عمل جاری ہے‘کابینہ معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کے معاملے کا جائزہ لے گی۔انہوں نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کو سیاست نہیں کرنی چاہیے تھی، اس سے قبل 2004 میں جہانگیر بدر سے 2 لاکھ روپے کے انڈیمنٹی بانڈ لیے گئے تھے۔ وزیر قانون نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے فیصلہ جنوری میں ہونا ہے، احتساب کا عمل سب کے لیے یکساں ہے اپوزیشن کے خلاف وزیراعظم یا میرا کوئی ایجنڈا نہیں‘وفاقی کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں جن کے مطابق عبوری حکم پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت نہیں ہوسکتی، حتمی فیصلے کی صورت میں حکومت چاہے تو اپیل کر سکتی ہے. فروغ نسیم نے کہا کہ ڈاکٹرز کی رائے کی روشنی میں کسی کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا جاسکتا ہے، نواز شریف کے معاملے کے حوالے سے برطانوی حکومت کو تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی نوازشریف پر مقدمات سے آگاہ کیا جائے گا‘ہم نواز شریف کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے