English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

واٹر بورڈ 350 افسران کی اگلے گریڈ میں ترقی کھٹائی میں پڑ گئی

ورلڈ بینک کی مداخلت کے باعث سابقہ ادوار میں کی جانے والی ترقیوں کو بھی خطرات لاحق
شہر میں فراہمی و نکاسی آب کے امور سمیت ادارے کے انتظامی امور درہم برہم ہونے کا خطرہ
کراچی (وقائع نگار خصوصی)ورلڈ بینک کی مبینہ مداخلت کے باعث واٹر بورڈ کے ساڑھے تین سو سے زائد افسران کی اگلے گریڈ میں ترقیاں کھٹائی میں پڑگئیں، سابقہ ادوار میں کی جانے والی ترقیوں کو بھی خطرات لاحق ہوگئے،دوروز قبل منسوخ کی گئی ڈی پی سی ون میں 110افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی کی منظوری دی جانی تھی جس میں گریڈ20 میں جانے والے چار افسران،گریڈ19میں جانے والے آٹھ افسران جبکہ گریڈ18 میں جانے والے25 افسران شامل تھے،سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے افسران کی ترقیوں کا عمل روکے جانے پر واٹر بورڈ افسران میں شدید بے چینی اور اضطراب پھیل گیا ہے،ورلڈ بینک کی مبینہ ہدایت اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کے حکم پر ترقیوں سے محروم ہونے والے افسران سندھ حکومت کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے میں مصروف،شہر میں فراہمی ونکاسی آب کے امور سمیت ادارے کے انتظامی امور بھی درہم برہم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق ادارہ فراہمی ونکاسی آب میں افسران کی ترقیوں کا عمل روکے جانے سے ادارے کے تقریبا ساڑھے تین سو سے زائد افسران متاثر ہوئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ 19نومبرکو ہونے والی ڈی پی سی ون کی میٹنگ میں 110 افسران کو اگلے گریڈز میں ترقی دی جانی تھی جبکہ ڈی پی سی ون کے بعد ڈی پی سی ٹو کی آئندہ چند روز میں میٹنگ ہونی تھی جس میں 250 کے قریب افسران کی ترقی کی جانی تھی،یاد رہے کہ دوروز قبل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ روشن علی شیخ نے واٹر بورڈ ہیڈ آفس پہنچ کر افسران سے منعقدہ اجلاس میں ڈی پی سی کی میٹنگ منسوخ کرنے کا حکم صادر کردیا تھا اور اس حوالے سے اجلاس میں شریک افسران کو آگاہ بھی کیا تھا کہ ورلڈ بینک کو واٹر بورڈ کے افسران کی ترقیوں پر تحفظات ہیں اس لئے ڈی پی سی منسوخ کردی جائے،مذکورہ انکشاف اور احکامات کے بعد واٹر بورڈ افسران میں سخت بے چینی،اضطراب اور اشتعال پایا جارہا ہے،افسران نے اس سلسلے میں اعلی عدلیہ سے رجوع کرنے سمیت دیگر احتجاج کا لائحہ عمل ترتیب دینا شروع کردیا ہے اور ڈی پی سی کی میٹنگ منسوخ کئے جانے کو غیر قانونی بھی قرار دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے