ملک مخالف نعرے اور وال چاکنگ کا الزام، کوئی گرفتار نہیںہوا‘4 طالب علموںکی قبل از گرفتاری ضمانت
جامعہ کی انتظامیہ نے مقدمہ جھوٹا قرار دے دیا‘ کوئی ملک دشمن سرگرمی نہیں ہو رہی‘ترجمان جامعہ سندھ
کوٹری (مانیٹرنگ ڈیسک) جامعہ سندھ میں احتجاج اور کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں سے تعلیمی ماحول متاثر۔پولیس نے 17 طالب علموں سمیت 21 افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا، کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا،4 طالب علموں نے قبل از گرفتاری ضمانت کرا لی۔ جامعہ سندھ کی انتظامیہ نے مقدمہ جھوٹا قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق جامعہ سندھ جامشورو میں گزشتہ روز 17 طالب علموں سمیت 21 افراد پر ملک مخالف نعرے لگانے ،وال چاکنگ اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جامعہ سندھ میں کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ(جسقم ) نے ملک دشمن وال چاکنگ کی۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے کالعدم تنظیم کی سرگرمیاں جامعہ میں دیکھی جا رہی ہیں، جس پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پولیس نے ایسی سرگرمیوں کی اطلاع پر فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے جامعہ سندھ کے ترجمان واحد پارس ہسبانی کاکہنا ہے کہ جامعہ سندھ میں کوئی ملک دشمن سرگرمی نہیں ہو رہی۔ پولیس کی جانب سے طالب علموں پر لگائے گئے الزامات درست نہیں۔ قانونی ماہر معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ ادھرایس ایس پی جامشورو امجد احمد شیخ کاکہنا ہے کہ اگر جامعہ سندھ کی انتظامیہ بغاوت کے مقدمے کو جھوٹا سمجھتی ہے تو تحریری طور پر لکھ کر دے ہم مقدمہ خارج کر دیں گے۔

