انقرہ (صباح نیوز) ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں 2 روزہ کشمیر کانفرنس کاآغاز ہوگیا۔ انقرہ میں جاری 25ممالک کی نمائندگی پر مشتمل کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں 80لاکھ سے زاید کشمیریوں پر بھارتی ریاستی مظالم کو انسانیت اورعالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قراردیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فوری حل کرنے کامطالبہ کیاگیاجبکہ کانفرنس میں ورلڈسکھ پارلیمنٹ کے رہنمائوں نے بھارتی جھنڈے سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اسٹیج سے ترنگا ہٹوا دیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ممالک کے مندوبین نے کشمیریوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اپیل کی کہ مسلم ممالک کشمیریوں کی نسل کشی کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائیں۔ کانفرنس میں ترکی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ کشمیری مسلمانوں کو بچانے کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کیا جائیگا۔انقرہ میں ترک تھینک ٹینک کے اشتراک سے لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ کی کشمیرعالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ90 لاکھوں محبوس کشمیری عالمی امن کے خطرے کی وارننگ دے رہے ہیں۔خصوصی حیثیت بدلنے کے بعد کشمیر دنیاکے راڈار پر اپنی گھمبیر حیثیت کے ساتھ آرہاہے۔شرکا ء نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے کشمیری مسلمانوں کو بچانے کے لیے کردار کی تعریف کی۔علاوہ ازیںعالمی کشمیر کانفرنس میں ورلڈسکھ پارلیمنٹ کے رہنمائوں نے بھارتی جھنڈے سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اسٹیج سے بھارتی ترنگا ہٹوا دیا، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کی سیلف ڈٹرمینینشن کونسل کے کو آرڈینیٹر رنجیت سنگھ نے اسٹیج پر بھارتی جھنڈا دیکھنے کے بعد اسے ہٹانے کی درخواست کی ۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ آج سے میں اس جھنڈے سے لا تعلقی کا اعلان کرتا ہوں ۔ انہوں نے منتظمین سے گزارش کی کہ آپ اسکرین پر میری تقریر کے دوران برطانیہ کا جھنڈا لگائیں کیونکہ میں برطانوی شہریت رکھتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ بھارتی ترنگا دکھایا جائے ۔آج سے میں کبھی بھارتی جھنڈا اپنے نام کے ساتھ نہیں لگاؤں گا ۔
