تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی پولیس نے ملک میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈائون کے دوران احتجاج کرنے والے 100 اہم رہنماؤں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے ملک بھر میں مظاہرین کے 100 رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے۔ ایرانی نیوز چینل کے مطابق جمعہ کے روز رہبر اعلیٰ خامنہ ای کے مندوب اور تہران کی جامع مسجد کے خطیب احمد خاتمی نے کہا تھا کہ پر امن احتجاج ہر ایک کا حق ہے اور کسی کو پرامن احتجاج سے نہیں روکا گیا۔ انہوں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی تردید کی اور کہا کہ مظاہرین کی آڑ میں ان کی صفوں میں موجود شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی جو احتجاج کی گاڑی میں سوار ہو کرملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ دریں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب نے جمعہ ہی کے روز اعتراف کیا تھا کہ پہلے دن 28 صوبوں کے 100 شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ علاوہ ازیں عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے بعض اعلیٰ عہدے داروں نے کہا ہے کہ مغربی صوبے کرمان شاہ اور دوسرے علاقوں میں فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب کے اہل کاروں نے پُرتشدد مظاہروں پر قابو پانے میں پولیس کی مدد کی ہے۔ انہوں نے مظاہرین کی صفوں میں امریکی ایجنٹوں کے درآنے کا الزام عائد کیا ہے۔
