English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بوسنیا: سردی کیساتھ ہزاروں مہاجرین کی مشکلات میں اضافہ

بوسنیا: مغربی یورپ جانے کے خواہش مند تارکین وطن سرحدی جنگل کی خیمہ بستی میں نامساعد حالات کا مقابلہ کررہے ہیں

سرائیوو (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپ جانے کے خواہش مند ہزاروں مہاجرین اور تارکین وطن بوسنیا کے ایک کیمپ میں شدید سردی میں رہنے پر مجبور ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بنیادی سہولیات سے محروم کیمپ میں مقیم افراد کو سردی کا پورا موسم انتہائی دشوار گزار حالات میں بسر کرنا پڑے گا۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بوسنیا کے شمال مغرب میں واقع کیمپ میں مہاجرین اور تارکین وطن کی بڑی تعداد موجود ہے۔ واضح رہے کہ کروشیا کی سرحد کے قریب واقع اس کیمپ کو ووک جیک ٹینٹ کیمپ کا نام دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے اسے خطرناک اور غیر انسانی ماحول کا حامل کیمپ قرار دیتے ہیں۔ یہاں زیادہ تر ایسے افراد مقیم ہیں جو کروشیا کی سرحد عبور کرکے یورپ جانے کے خواہش مند ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کئی افراد ایسے بھی ہیں جو کئی بار سرحد عبور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں تاہم کامیاب نہ ہونے پر اب بنیادی سہولیات سے محروم اس کیمپ میں موجود ہیں۔ کیمپ میں موجود افراد دن بھر قریبی جنگل سے لکڑیاں جمع کرنے میں گزارتے ہیں تاکہ رات میں ان سے آگ لگا کر تپش حاصل کر سکیں۔ بوسنیا کی شدید سرد راتوں میں یہ عمل مجبور مہاجرین کو گرمی فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ کیمپ میں بنیادی ضروریات کے انتظامات بالکل نہیں جبکہ نہانے سمیت دیگر ضروریات یہاں کرنا ممنوع ہے، اس کے لیے کیمپ میں مقیم افراد کو کھلے علاقے میں جانا پڑتا ہے جہاں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے آرام دہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کیمپ میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کو دن میں صرف ایک ہی بار کھانا میسر آتا ہے جو کہ امدادی ادارے ہلال احمر کے کارکن تقسیم کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے