
میرپورخاص( نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے سانحہ تیز گام کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر ریلوے استعفا، شہدا کے لواحقین کے ساتھ مالی تعاون اور واقعے کی عدالتی تحقیقات کرکے اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ حکومتی دعوؤں اور عوامی امیدوں کے برعکس مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بناکر رکھ دی ہے۔موسم سرما آنے کے باوجود سندھ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بلدیاتی اداروں کی ابتر صورتحال حکومتی کی ناکامی اور اہل سندھ سے بڑی ناانصافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپورخاص پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔قبل ازیں صوبائی امیر نے جماعت اسلامی کے مقامی ذمے داران کے ہمراہ تبلیغی مرکز، بسم اللہ مسجد اور سانحہ تیزگام کے دیگر شہداکے گھروں پر جاکر ان کے لواحقین سے تعزیت کی، انہوں نے شہداکے اعلیٰ درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔اس موقع پرضلعی امیر افضال آرائیں ، مقامی امیر حاجی نور الٰہی، لالہ نورمحمد اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا سمیت جماعت اسلامی و جمعیت کے کارکنان بھی موجود تھے۔ محمد حسین محنتی نے مزید کہاکہ کسی تحقیقات سے قبل ہی تیزگام ٹرین حادثے کا سبب سلنڈر پھٹنے کو قراردینے والا حکومتی موقف مضحکہ خیز ہے۔ وزارت ریلوے کا اپنی نااہلی چھپانے کے لیے تبلیغی جماعت کے ساتھیوں پر ایف آئی آر درج کرنا ظلم اور قانون وانصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ متاثرین کو انصاف دینے کے بجائے ایف آئی آر شہدا کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مقامی امیر حاجی نور الٰہی مغل کی زیرصدارت مغل ہائوس پر منعقدہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی اللہ کی جماعت ہے جو اپنے قیام کے روز اول سے ہی اصلاح معاشرہ و اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ کارکنان کوششوں کو تیز کریں اور جماعت اسلامی کو سندھ میں غالب قوت بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ بزرگوں کا اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
