اسلام آباد/ کراچی (نمائندگان جسارت) نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر پاکستان آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت 22 ملزمان کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر کردیا، سابق ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون 10روزہ جسمانی ریمانڈپرنیب کے حوالے کردیا گیاجبکہ سندھ ہائیکورٹ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سمیت دیگر کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔عدالت نے اومنی گروپ کیخلاف تحقیقات کیخلاف درخواست پر ایف آئی اے سے جواب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر پاکستان آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت 22 ملزمان کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر کردیا۔ گزشتہ روزدائرضمنی ریفرنس میں ملزمان پرالزام ہے کہ نجی بینک کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا، بے نامی دار اے ون انٹرنیشنل کے نام پر زمین خریدی گئی، ملزم مشتاق احمد زرداری کے پرائیویٹ سیکرٹری رہے اور سابق صدر کے ساتھ مشترکہ اکاؤنٹ بھی ہے، 8.3 بلین روپے کی رقم جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے نکلوائی گئی، بینک ریکارڈ کے مطابق اکاؤنٹ زرداری کے لیے استعمال ہوتا
تھا،اس اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک رقم بھی منتقل ہوتی، سمٹ بینک کے اکاؤنٹ سے غیر قانونی 1200 ملین روپے منتقل کرائے گئے، 950 ملین روپے کی رقم دوبارہ زرداری کے زیر استعمال اکاؤنٹس منتقل ہوئی، انور مجید، عبدالغنی مجید۔ مصطفی ذوالقرنین کا سارے معاملے میں اہم کردار ہے، ریفرنس میں آصف زرداری اور فریال تالپورکے علاوہ حسین لوائی،انورمجید،عبدالغنی مجید، طحہٰ رضا، عارف خان، محمد عمیر، سیدحسین فیصل شاہ جموٹ، اعظم وزیر خان، نمرمجید،مصطفی زوالقرنین مجید،علی کمال مجید،محمد یونس قدوائی،زین ملک،حاجی ہارون،خواجہ محمد سلیمان یونس،پیردرویش خان، عمران خان،محمد اورنگزیب خان اور بلال شیخ ملزمان میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں احتساب عدالت کے جج محمدبشیر کی عدالت نے جعلی بینک اکاونٹس کیس میں گرفتارسابق ایم ڈی پی آئی ایاعجاز ہارون کو10روزہ جسمانی ریمانڈپرنیب کے حوالے کردیا۔نیب حکام نے عدالت کو بتایاکہ 21 تاریخ کو ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا گیا،ملزم پرپلاٹوں غیر قانونی طورپر منتقلی کے الزامات ہیں، 12 پلاٹس کی فرضی ناموں پر منتقل کیے گئے، جعلی اکاؤنٹس سے 144 ملین ٹرانزیکشن کی گئی ملزم کے خلاف شواہد ملے ہیں۔ ادھر سندھ ہائیکورٹ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سمیت دیگر کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس عمر سیال اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل 2 رکنی بینچ کے روبرو پراسیکیوٹر نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آغا سراج اور اہلخانہ کے پاس صرف 150 ایکڑ زرعی اراضی ہے، آغا سراج کا 7000 ایکڑ زرعی زمین کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ آغا سراج نے الیکشن کمیشن میں بھی 150 ایکڑ زرعی زمین درج کرائی ہے۔ ملزم نے 7 ہزار ایکڑ زمین کی کوئی دستاویز پیش نہیں کی۔ ایف بی آر اور دیگر ریکارڈ کے مطابق بیشتر جائیداد 2008ء کے بعد بنائی گئیں۔ آغا سراج نے وزیر بلدیات بننے کے بعد سارے اثاثے بنائے۔ الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کو کبھی خاندانی اثاثوں کی تفصیل پیش نہیں کی گئیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ اگر آغا سراج درانی کے اجداد کے اثاثے ہوتے تو ان کے نام منتقل ہوتے۔ جسٹس عمر سیال نے ریماکس دیے کہ ایسے یہ نظام نہیں چلتا ہے، بیشتر کھاتے منتقل نہیں ہوتے۔ کیا ہونا چاہیے یہ الگ بات ہے اور کیا ہوتا ہے یہ الگ ہے۔ نیب کی تفتیش انتہائی ناقص اور افسوسناک ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر آغا سراج اور دیگر کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔مزید برآں سندھ ہائیکورٹ نے اومنی گروپ کیخلاف تحقیقات کیخلاف درخواست پر ایف آئی اے کو جواب کے لیے مہلت دیدی، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس عبدالمبین پر مشتمل 2 رکنی بینچ کے روبرو اومنی گروپ کیخلاف ایف آئی اے تحقیقات کیخلاف اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کی ایف آئی اے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے حکام نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک بار پھر مہلت مانگ لی۔ ایف آئی اے کے وکیل نے مؤقف دیا کہ متعلقہ حکام سے پوچھ کر بتا سکتے ہیں کہ مزید تحقیقات جاری ہیں یا نہیں۔ میگا منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے نے شروع کیا تاہم اب نیب کو منتقل ہو چکا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
جعلی اکائونٹس کیس
